خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 302

$1955 302 خطبات محمود جلد نمبر 36 اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ جب تک ساری جماعت اس کام میں نہ لگ جائے اُس وقت تک یہ بوجھ نہیں اٹھایا جاسکتا۔پس اپنی خدمات پیش کرو اور انتظام کرنے والوں کے بوجھ کو ہلکا کرو۔آخر وہ بھی انسان ہی ہیں وہ کتنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔پھر میں جہاں ربوہ کے دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ نہایت اخلاص سے کام کریں وہاں میں انہیں یہ بھی نصیحت کروں گا کہ وہ اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔مومن کی جان بڑی قیمتی ہوتی ہے اس لیے ان میں سے کسی کو اپنی جوانی اور جسم کی مضبوطی کا غرور نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ سو بعض اوقات بے احتیاطی کی وجہ سے بڑے بڑے قومی آدمیوں کو بھی تکلیف ہو جاتی ہے۔جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ گرم کپڑے پہنیں اور جن کے پاس کپڑے نہیں وہ کم از کم اتنا کریں کہ ایسے کمروں میں بیٹھیں جہاں تنور وغیرہ جلتے ہوں اور وہ گرم ہوں۔پھر انہیں یہ بھی احتیاط کرنی چاہیے کہ وہ سردی سے یکدم گرمی میں نہ چلے جائیں اور نہ گرمی سے یکدم سردی میں آئیں۔کیونکہ یہ دونوں باتیں صحت کے لیے مضر ہوتی ہیں۔پھر سب لوگ دعا کرتے رہیں۔در حقیقت ہماری جماعت نہایت ہی قلیل ہے اور ہمارے پاس جو سامان ہیں وہ بھی بہت کم ہیں۔خدا تعالیٰ ہی ہماری مدد کرے تو کرے ورنہ اس کے بغیر ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں۔اس لیے سب دوست دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اس آنے والے جلسہ سالانہ کو ہمارے لیے مبارک کرے اور اس جلسہ کے بعد جو آنے والا سال ہے اُسے اور بھی زیادہ ހނ مبارک کرے۔اور آئندہ ہر آنے والے سال کو ہماری جماعت کی ترقی کے لیے مبارک۔مبارک تر کرتا چلا جائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم خدا تعالیٰ کے پیغام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلا ئیں۔یہ کام بہت مشکل ہے۔میرا دل تو اس کا خیال کر کے بھی کانپ پھیلائیں جاتا ہے۔اگر یہ کام پورا ہوگا تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوگا ورنہ اس کو پورا کرنا ہماری طاقت سے بالا ہے۔کیونکہ دل خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ہمارے قبضہ میں نہیں۔اور انَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ 1 خدا تعالی ہی ہے جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہے۔پس دل تک کوئی بات پہنچانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اسے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دینا پڑتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ اُسے دوسرے کے دل میں رکھتا ہے۔ہم میں یہ طاقت