خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 273

1955ء 273 خطبات محمود جلد نمبر 36 اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے صلى الله ما تحت پرسوں درد صاحب اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک نے فوت ہونا ہے ۔ درد صاحب تو اتنے بڑے پایہ کے آدمی نہیں تھے۔ ان سے بڑے بڑے پایہ کے لوگ بھی وفات پاگئے ۔ رسول کریم ﷺ وفات پاگئے ۔ آپ کے چاروں خلفاء وفات پاگئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام وفات پا پاگئے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول وفات پاگئے ۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابہ ایک ایک کر کے وفات پاگئے ۔ خودان کے اپنے والد ماسٹر قادر بخش صاحب اور ان کے خسر میاں عبداللہ صاحب سنوری جو پرانے صحابہ میں سے تھے فوت ہو گئے ۔ پس فوت تو سب نے ہونا ہے لیکن یہ طبعی بات ہے کہ پرانا تعلق ہونے کی وجہ سے صدمہ زیادہ ہوتا ہے۔ 1912ء سے دردصاحب کا میرے ساتھ تعلق تھا۔ 1914 ء میں وہ قادیان سلسلہ کی خدمت کے لیے آگئے تھے ۔ 1924ء میں وہ انگلستان مبلغ بن کر گئے تھے۔ پھر دوبارہ 1933ء میں انگلستان گئے اور قریباً 6 سال وہاں رہے۔ غرض وہ دو دفعہ مبلغ بن کر انگلستان گئے ۔ پہلی دفعہ 12 جولائی 1924 ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور 22 اکتوبر 1928 ء کو واپس آئے ۔ اور دوسری دفعہ 2 فروری 1933 ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور 9 نومبر 1938 ء کو واپس آئے ۔ قادیان میں وہ سالہا سال تک صدرانجمن احمد یہ کے ناظر رہے اور سلسلہ کے اہم معہدوں پر کام کرتے رہے۔ اتنے لمبے عرصہ تک جس شخص کے پر ساتھ تعلق رہا ہو اُس سے طبعاً محبت ہو جاتی ہے۔ ایک انسان کسی مکان میں لمبے عرصہ تک رہے۔ تو اُس سے بھی محبت ہو جاتی ہے ۔ پھر ایک انسان جس کے ساتھ روزانہ واسطہ پڑتا ہو اُس سے تو لازماً محبت ہو جاتی ہے ۔ اس لیے گو درد صاحب کی وفات کوئی عجیب چیز نہیں لیکن ان سے دیرینہ تعلق کی بناء پر ان کی وفات سے میرے دل کو اور دوسرے دوستوں کے دلوں کو بھی صدمہ پہنچنا ایک طبعی بات تھی ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو جب صلیب پر چڑھانے کا وقت قریب آیا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! میری روح تو تیرا حکم ماننے کے لیے تیار ہے مگر میرا جسم کمزور ہے 2 ۔ پس جسمانی طور پر ایسی چیزوں کا صدمہ ضرور ہوتا ہے۔ چنانچہ درد صاحب کی اچانک وفات سے مجھے بھی