خطبات محمود (جلد 36) — Page 264
$1955 264 خطبات محمود جلد نمبر 36 سے مانگا نہ جائے۔آخر مسیح اول کے ایک حواری نے بھی 32 کھوٹے سکے لے کر اُسے بیچ دیا تھا۔بے شک وہ حواری جہاندیدہ اور تجربہ کا رتھا اور یہ بچہ تھا مگر مبشر احمد کا جرم اس وجہ سے بڑھ جاتا تو ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پوتا ہے۔پھر اس نے 32 کھوٹے سکتے نہیں لئے بلکہ نو سو یا ہزار کھرے روپے لے کر گورنمنٹ کی سروس اختیار کر لی۔ممکن ہے اگر سزا سے چندہ قبول نہ کرنے کی شرط کو اُڑا دیا جائے اور اس کے اندر دین کی غیرت ہو تو اُسے اس نیکی کی وجہ سے آگے قدم بڑھانے کی توفیق مل جائے۔اگر اس میں ایمان ہوتا تو وہ پہلے بھی سلسلہ کی خدمت کے لیے آسکتا تھا لیکن معلوم ہوتا ہے اس کا ایمان کمزور ہے اور اس کا دل بھی کمزور ہے۔وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے وقف کیا تو کھاؤں گا کہاں سے۔لیکن اس نے یہ نہ سوچا کہ آخر دوسرے لوگ بھی ہیں جو قلیل آمد میں گزارہ کر رہے ہیں۔مثلاً اس کا بھائی مرزا منور احمد ہے اس وقت سلسلہ کی خدمت کر رہا ہے۔اور پھر منور احمد ہر سال پاس ہوتا رہا ہے لیکن وہ فیل بھی ہو گیا تھا۔اس لیے منور احمد اس سے بہتر ڈاکٹر تھا۔جب اس نے امتحان پاس کیا تو گورنمنٹ نے بڑا ہی زور لگایا کہ اسے پانچ سال کے لیے باہر بھیج دیا جائے۔لیکن میں نے نہ مانا۔اسے ہاؤس سرجن لگانے کی تجویز تھی۔کیونکہ اس سے تجربہ زیادہ ہو جاتا ہے اور میں نے بھی اس کے لیے کوشش کی لیکن افسر ہوشیار تھے انہوں نے اصرار کیا کہ اگر مرزا منور احمد پانچ سال تک فوجی سروس کرے تو اُسے ہاؤس سر جن لگا دیا جائے گا۔لیکن میں نے کہا میں نے اس سے سلسلہ کی خدمت کرانی ہے۔مرزا مبشر احمد کو خیال آنا چاہیے تھا کہ آخر میرے تایا کا بیٹا بھی یہاں گزارہ کر رہا ہے۔پھر وہ مجھ سے زیادہ لائق ہے۔وہ ہر سال امتحان میں پاس ہوتا رہا ہے لیکن میں فیل بھی ہو گیا تھا۔پھر اس نے مجھ سے پانچ سال پہلے امتحان پاس کیا ہے۔اگر وہ تھوڑی تنخواہ میں گزارہ کر رہا ہے تو میرے لیے کون سی مشکل ہے کہ گزارہ نہ کر سکوں۔زیادہ سے زیادہ وہ یہ کہہ سکتا تھا کہ میرے گھر میں نواب کی بیٹی ہے۔لیکن عجیب بات ہے مرزا منور احمد کے گھر میں بھی اُسی نواب کی بیٹی ہے۔اور وہ اُس کی بیوی کی بڑی بہن ہے۔اس لیے مرزا منور احمد پر وہ ساری باتیں چسپاں ہوتی ہیں جو مرزا مبشر احمد پر چسپاں ہوتی ہیں۔وہ ڈاکٹر بھی ہے اور اسکی بیوی بھی نواب کی بیٹی ہے، مرزا مبشر احمد کی بیوی کی بڑی بہن ہے۔اس لیے جہاں تک بیوی کے دباؤ کا سوال ہے یہ بھی غلط ہے۔اور جہاں تک