خطبات محمود (جلد 36) — Page 261
$1955 261 خطبات محمود جلد نمبر 36 کی شکل میں۔پھر یہ نہیں ہوگا کہ باہر سے آنے والے اس بات کی تعریف کریں کہ احمدیوں کی تنظیم بہت اچھی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ کہیں کہ ان کا شہر مُردہ نظر آتا تھا، وہاں کوئی صفائی نہیں تھی ، اس کی حالت مقبروں کی سی تھی۔ہم تو وصیت والے مقبرہ کی صفائی کرتے ہیں لیکن عام قبرستانوں کی صفائی کا کون انتظام کرتا ہے۔اسی طرح اگر یہاں گند ہو تو باہر سے آنے والے کہیں گے کہ یہاں کے رہنے والے مُردہ ہیں۔ان کی حالت قبرستان میں مدفون مُردوں کی سی ہے۔جس طرح انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے اسی طرح انہیں بھی معلوم نہیں کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے۔جس طرح مقبرے گندے ہوتے ہیں اسی طرح ان کا شہر بھی گندہ ہے۔یہ باتیں ہیں تو معمولی لیکن ان کے نتائج بہت بُرے نکلتے ہیں۔دیکھو ! رسول کریم ﷺ کو صفائی کا کس قدر خیال تھا۔آپ نے ایسے شخص کے لیے بڑی وعید فرمائی ہے جو سڑک پر پاخانہ پھرتا ہے 1۔اسی طرح فرمایا اگر کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب کر دیتا ہے تو وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔اسی طرح فرمایا جو شخص رستہ میں پڑی ہوئی کوئی ایذا دینے والی چیز دُور کر دیتا ہے اسے ثواب ملے گا3۔مثلاً رستہ میں کانٹے پڑے ہوں ، پتھر پڑے ہوں یا کسی نے اوجھڑی یا انتڑیاں رستہ میں پھینک دی ہوں تو اگر انہیں کوئی شخص رستہ سے ہٹا دیتا ہے تو اُسے خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت اجر ملے گا۔اسی طرح آپ نے انہی کاموں کی جو آئندہ میونسپل کمیٹیوں نے کرنے تھے بنیا د رکھ دی اور لوگوں کو اُن کے فرائض کی طرف متوجہ کر دیا۔پس ہمیں چاہیے کہ ہم میونسپل کمیٹی کی مدد کریں اور اس کی آمد بڑھانے کی کوشش کریں۔ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ کمیٹی کی آمد تین چار لاکھ روپیہ سالا نہ ہو جائے تا وہ سڑکیں بنائے اور لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سہولت سے جاسکیں اور اسی طرح دوسرے مفاد عامہ کے کام سرانجام دے۔مثلاً ابھی ہسپتال بننا ہے، ہسپتال لوگوں کے لیے بننا ہے لیکن روپیہ سلسلہ خرچ کر رہا ہے۔اگر میونسپل کمیٹی کے ٹیکس ادا ہوں اور وہ شہر کے بنانے میں حصہ لے تو گورنمنٹ کو بھی غیرت آئے اور وہ بھی اِس کے لیے کچھ روپیہ دے دے۔لیکن اب وہ یہ اعتراض کرتی ہے کہ میونسپل کمیٹی تو خرچ کرتی نہیں صرف ہم سے مانگنا چاہتے ہیں۔اسی طرح تعلیم ہے اس کا انتظام بھی بالعموم