خطبات محمود (جلد 36) — Page 250
1955ء 250 خطبات محمود جلد نمبر 36 تھے آدم تھے۔ کسی زمانہ میں حز قیل علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں دانیال علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں ملا کی علیہ السلام آدم تھے ۔ کسی زمانہ میں یحییٰ علیہ السلام آدم تھے۔ کسی زمانہ میں مسیح علیہ السلام آدم تھے۔ پھر جس طرح ابو البشر آدم تھا اسی طرح ابوالا نسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آدم ۔ پس فرماتا ہے کہ ثُمَّ صَوَّرْ لَكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُ و الآدَمَ پھر ہم نے فرشتوں ں سے کہا کہ یہ جو صفات الہیہ کو ظاہر کرنے والا آدم ہے تم اس کے آگے سجدہ کرو۔ لیکن پھر بھی سجدہ کے معنے مجازی سجدہ کے ہی ہوں گے ۔ کیونکہ حقیقی سجدہ سوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی کے سامنے جائز نہیں ۔ اسی لیے ہم نے مجازی سجدہ کا حکم بھی ایسے مجازی خدا کے لیے دیا ہے جو صفات الہیہ کو ظاہر کرنے والا ہے اور اس سجدہ کے معنے اطاعت کے ہیں ۔ پھر ملائکہ کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ کرتے ہیں وہ اُس کی نافرمانی نہیں کرتے 3 ۔ اب اگر اسجد و اسے مراد ہر انسان کے آگے سجدہ کرنا ہو تو اس کے معنے یہ بنیں گے کہ یہ چوری کرے تو تم بھی چوری کرو۔ یہ ڈا کا مارے تو تم بھی ڈا کا مارو ۔ یہ قتل کرے تو تم بھی قتل کرو ۔ حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے ۔ سجدہ بہر حال اُسی آدم کے آگے ہو سکتا ہے جو کبھی چوری نہیں کر سکتا ، جو کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا ، جو کبھی فریب نہیں سکتا، کر سکتا ، جو کبھی شرک نہیں کر سکتا ، جو کبھی بددیانتی نہیں کر سکتا ، جو کبھی ظلم نہیں کر سکتا ، جوکسی قسم کی خرابی ظاہر نہیں کر سکتا۔ اور چونکہ وہ خود ان صفات کا حامل ہوگا جو ملائکہ کی صفات سے بڑی ہیں اس لیے ہوگا کی اگر ایسے آدم کی اطاعت کی جائے تو درست ہوگا ۔ جو شخص خدائی صفات کا مظہر ہوگا ملائکہ کی کیا طاقت ہے کہ اُس کے خلاف چلیں ۔ ملائکہ کا فرض ہے کہ اُس کے ساتھ چلیں ۔ پس یا درکھو کہ تم میں سے ہر شخص کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ طاقت پیدا کی ہے کہ تم اپنے اندر صفات الہٰیہ پیدا کرو اور اگر تم اپنے اندر صفات الہیہ پیدا کر لو تو پھر تم میں سے ہر ایک کے لیے ملائکہ کو حکم ہوگا کہ وہ تمہاری مدد کریں ۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے کسی بندے کی مقبولیت دنیا میں پھیلے تو وہ ملائکہ کو حکم دیتا ہے ۔ وہ اُترتے ہیں اور دنیا میں اُس کی مقبولیت کو پھیلا دیتے ہیں ۔ 4 پس ہر انسان کے اندر یہ قابلیت ہے کہ وہ صفات الہیہ کو جذب کر سکتا ہے اور جب وہ