خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 251

$1955 251 خطبات محمود جلد نمبر 36 اپنے اندر صفات الہیہ جذب کر لیتا ہے تو فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہو جاتا ہے کہ وہ ای اُس کے پیچھے پیچھے چلیں۔چنانچہ جہاں بھی وہ جاتا ہے فرشتے اُس کے ساتھ ہوتے ہیں۔اور وہ لوگوں کے دلوں میں اُس کا رُعب ڈالتے ہیں اور اُس کی محبت پیدا کرتے ہیں اور اس طرح وہ لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔پس کوشش کرتے رہو کہ تم سے سوائے خدائی صفات کے اور کوئی صفات ظاہر نہ ہوں۔پھر یاد رکھو ملائکہ تمہارے تابع ہو جائیں گے۔انہیں حکم ہوگا کہ وہ تمہاری اتباع کریں اور جس طرح تم کہو وہ اُس طرح کریں۔مجازی سجدہ کے معنے بھی اطاعت اور فرمانبرداری کے ہیں۔پھر تم کہو گے یوں کہو تو وہ اُسی طرح کہنے لگ جائیں گے۔تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہی سلوک ہوگا جو اُس کے خاص بندوں کے ساتھ ہمیشہ سے چلا آیا ہے کہ جس طرح وہ کہتے ہیں اُسی طرح ہو جاتا ہے۔اور وہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ میرے اس بندے کے دل میں وہی خواہش پیدا ہوگی جو میری خواہش ہوگی۔پس جب میرا یہ بندہ کوئی خواہش ظاہر کرے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ میں نے وہ خواہش ظاہر کی ہے۔اس لیے جس طرح تمہارا یہ فرض ہے کہ تم میری خواہش کو پورا کرو اسی طرح تمہارا یہ فرض بھی ہے کہ تم اس کی خواہش کو بھی پورا کرو۔پس انسان کا اصل مقام جس کا اس آیت سے پتا لگتا ہے یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صورت کو اختیار کرے۔یعنی حقیقی پیدائش تو اس کی وہی تھی جو ابو البشر آدم والی تھی۔لیکن پھر وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرے کہ اس کو دوسری پیدائش نصیب ہو جائے۔یعنی وہ خَلَقْنَكُم والی حالت سے ترقی کر کے صوَّرُ نَكُم والی حالت میں آجائے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اپنے فرشتوں کو یہ حکم دے دے کہ اب جو یہ کرے وہی تم کرو اور جو یہ کہے وہی تم کہو۔کیونکہ یہ ہماری مرضی کے خلاف نہیں کر سکتا اور تم بھی ہماری مرضی کے خلاف نہیں کر سکتے۔پس جو کچھ یہ کرے گا وہی ہماری مرضی ہوگی۔اور چونکہ تمہارا یہ فرض ہے کہ تم ہماری مرضی کو چلا ؤ اس لیے تم وہی کرو جو یہ کرتا ہے پس تم اللہ تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے بنو۔پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے کس طرح تمہاری مدد کرتے ہیں۔وہ تمہارے آگے بھی پھریں گے اور تمہارے پیچھے بھی پھریں گے۔وہ تمہارے دائیں بھی پھریں گے اور تمہارے بائیں بھی پھریں گے۔جیسے قرآن کریم