خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 245

$1955 245 خطبات محمود جلد نمبر 36 کرو۔بالکل اُسی طرح جس طرح رسول کریم ﷺ نے عدل قائم کیا تھا۔اگر رسول کریم ﷺ بھی نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ لوگوں کی طرح باتیں تو ڑ مروڑ کر کرنا جائز سمجھتے تو آپ یہ کہتے کہ میں نے جب دعوی کیا تھا تو ابو بکڑ نے میری بات مانی تھی ، عمر نے میری بات مانی تھی اس لیے یہ زیادہ حقدار ہیں کہ ان کی تائید کی جائے۔لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔آپ نے چاہے کوئی آپ کی کا ساتھی تھا یا دشمن ہر ایک کے معاملہ میں عدل کیا ہے۔جب بعض مسلمانوں نے مکہ پر حج کے قریب زمانہ میں حملہ کیا تو آپ بڑے خفا ہوئے اور فرمایا کہ تم نے حُرمت اللہ توڑی ہے میں اس کا کفارہ دوں گا۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ ان لوگوں نے میری خاطر قربانیاں کی ہیں اس لیے میر احق ہے کہ میں ان کی تائید کروں۔بلکہ یہ فرمایا کہ بہر حال تم نے خرمت اللہ توڑی ہے اس کا کفارہ دیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے کفارہ ادا کیا۔اسی طرح بعض دفعہ جب صحابہ نے غلطی سے دوسروں پر تعدی کی ( صحابہ بڑے نیک لوگ تھے وہ جان بوجھ کر دوسروں پر تعدی نہیں کرتے تھے۔ہاں غلطی سے بعض اوقات ایسا ہو جاتا تھا) تو آپ نے اُن کی تائید نہیں کی۔مثلاً ایک دفعہ غلطی سے ایک عورت ماری گئی۔آپ کو علم ہوا تو آپ صحابہ پر بہت خفا ہوئے۔3 اور احادیث میں آتا ہے کہ آپ کے چہرہ پر اُس وقت اس قدر غضب ظاہر ہوا جو اس سے قبل کبھی ظاہر نہیں ہوا تھا۔تو دیکھو یہ عدل ہوتا ہے۔پس تم حق کے ساتھ عدل قائم کرو۔بظاہر تو یہ عدل نظر آتا ہے کہ جن لوگوں نے قربانیاں کی ہیں اُن کی تائید کی جائے۔مگر وہ عدل نفسانی عدل ہے۔وہ حق کے ساتھ عدل نہیں۔پس مومن کو دنیا میں عدل کی تعلیم دینی چاہیے۔اور جب بھی خدا تعالیٰ اُسے طاقت دے اُس کو وہ طاقت اس طور پر استعمال کرنی چاہیے کہ حق کبھی بھی اُس کے ہاتھ سے نہ چھوٹے۔بلکہ ہمیشہ حق اُس کے ہاتھ میں رہے اور دنیا میں اس کے ذریعہ سے حق قائم ہو تا آنے والے لوگ یہ کہیں کہ جب شخص کمزور تھا تب بھی اُس نے حق کو نہیں چھوڑا۔اور جب یہ طاقتور ہوا تب بھی اُس نے حق کو نہیں چھوڑا۔اور یہی اصل ہدایت ہے۔ورنہ اگر کمزوری کے وقت میں انسان حق کی تائید کرے اور زور کے وقت وہ حق کو چھوڑ دے تو یہ تو ایسی ہی بات بن جاتی ہے جیسے کہتے ہیں۔