خطبات محمود (جلد 36) — Page 246
خطبات محمود جلد نمبر 36 246 $1955 کوئی پور بیا مر گیا تھا۔پوربیوں میں یہ رواج ہے کہ جب کوئی شخص مر جائے تو اسکے رشتہ دار ا کٹھے ہو جاتے ہیں اور پھر اُس کی بیوی اُس پر بین کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ مرنے والے نے فلاں سے قرض لینا تھا اور فلاں کا قرض دینا تھا۔اسی طرح اس پور بٹے کی بیوی نے یہ کہنا شروع کیا کہ ارے! اُس نے فلاں شخص سے اتنا روپیہ لینا تھا وہ اب کون لے گا؟ اس پر اُس کا ایک رشتہ دار چھلانگ مار کر آگے آیا اور کہنے لگا اری! ہم ری ہم۔پھر اُس نے کہا ارے اس نے فلاں سے بھی اتنا روپیہ لینا تھا۔وہ اب کون وصول کرے گا ؟ تو وہی رشتہ دار پھر آگے آیا اور کہنے لگااری ! ہم ری ہم۔اسی طرح وہ بار بار کہتی رہی کہ اُس نے فلاں سے قرض لینا ہے۔وہ اب کون لے گا ؟ اور وہ شخص بار بار یہی جواب دیتا رہا۔اری! ہم ری ہم۔آخر روپیہ دینے کی باری آئی اور مرنے والے کی بیوی نے کہا ارے! اُس نے فلاں کا اتنار و پیہ دینا تھا وہ اب کون دے گا ؟ پر اب وہ رشتہ دار جو روپیہ لینے کے وقت یہ کہتا تھا اری! ہم ری ہم ، وہ کہنے لگا۔ارے ! میں ہی ہر بار بولتا جاؤں یا کوئی اور بھی بولے گا۔؟ پس حقیقی عدل وہ ہے جو حق کے ساتھ قائم کیا جائے۔اور حقیقی ہدایت وہ ہے جو حق کے ساتھ دی جائے۔وہ کیا ہدایت ہوئی کہ اپنی مرضی کی بات منوائی۔وہ ہدایت ، ہدایت نہیں بلکہ نفس پرستی ہے۔چونکہ آج انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے جلسے ہیں۔طبیعت تو میری خراب ہے مگر میرا خیال ہے کہ ایک ہی وقت دونوں کے لیے دعا کر کے اُن کا افتتاح کردوں۔انصار اللہ کا پہلا اجلاس ہے جو منعقد کیا جا رہا ہے اس لیے نماز جمعہ کے بعد میں نماز عصر بھی پڑھا دوں گا تا دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لی جائیں اور دوستوں کو پہلے یہاں سے جانے اور پھر وہاں سے یہاں آنے کی تکلیف نہ ہو اور نماز کا وقت بھی ضائع نہ ہو جائے۔پس میں پہلے نماز جمعہ پڑھاؤں گا اور پھر عصر کی نماز پڑھاؤں گا۔اگر خدا تعالیٰ نے طاقت دی تو کھڑے ہو کر ورنہ میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں گا۔“ (الفضل 4/دسمبر 1955ء) :1 الاعراف : 182