خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 244

$1955 244 خطبات محمود جلد نمبر 36 ہوتے ہیں لیکن وہ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ نہیں بلکہ يَهْدُونَ بِالْعَصَاءِ وَيَهْدُونَ بِالسَّيْفِ كا مصداق ہوتے ہیں یعنی ڈنڈے اور تلوار سے وہ اپنی مزعومہ ہدایت کی تبلیغ کرتے ہیں۔مگر ہم نے دنیا میں صرف یہ نہیں کہا کہ ہدایت دو بلکہ یہ کہا ہے کہ ہدایت دو بالحق حق کے ساتھ۔مگر سارے انسان اس پر عمل نہیں کرتے۔بہت سے آدمی ایک چیز کو ہدایت سمجھتے ہیں اور پھر ڈنڈا لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو مانے گا وہ سیدھی طرح مانے نہیں تو ہم اُس کا سر پھاڑ دیں گے۔پھر جس چیز کو یہ لوگ مساوات کہتے ہیں اُس کو حق سے نہیں بلکہ ڈنڈے اور تلوار کے ذریعہ سے قائم کرتے ہیں۔مگر ایک جماعت ایسی ہوتی ہے جو حق کے ساتھ ہی دنیا میں عدل قائم کرتی ہے۔یہ کوئی مساوات نہیں جس میں ڈنڈے اور تلوار سے کام لیا جائے۔اور نہ یہ کوئی تبلیغ ہے جس میں ڈنڈے اور تلوار سے کام لیا جائے۔تبلیغ بھی دراصل وہی ہے جو حق کے ساتھ کی جائے اور اس میں دلائلِ حقہ پیش کئے جائیں۔اور عدل اور مساوات بھی یہی ہے کہ وہ تعلیم جو خدا تعالیٰ کی نے دی ہے اُس کو قائم کیا جائے۔یہ کوئی عدل اور مساوات نہیں کہ ڈنڈا ہاتھ میں لے کر سیدھے کرنے لگ جاؤ۔یا یہ کہو کہ کا فر کو تو اختیار نہیں کہ ڈنڈے کے ساتھ اپنی بات منوالے لیکن ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ دوسروں سے ڈنڈے کے ساتھ اپنی بات منوائیں۔یہ عدل کیسے ہوسکتا ہے۔حقیقی عدل تو وہی ہے جس میں خدا تعالیٰ کی تعلیم کو قائم رکھا جائے۔آخر عدل صرف بندوں میں تو نہیں ہونا چاہیے خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی عدل ہونا چاہیے۔اور یہ کیا عدل ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے ساتھ بدنام کیا جائے ، اُس کو بھی اپنے ساتھ لپیٹا جائے کہ یہ گندی تعلیم ( نعوذ باللہ ) اُس کی طرف سے آئی ہے۔پھر جس شخص نے خدا تعالیٰ کے ساتھ عدل نہیں کیا اُس نے انسان کے ساتھ کہاں عدل کرنا ہے۔پس یاد رکھو! ہمیشہ حق کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دو۔کبھی اپنی نفسانی باتوں کے ذریعہ سے دوسروں کو ہدایت نہ دو۔بسا اوقات انسان اپنے نفس میں ایک بات کے متعلق سمجھتا ہے کہ یوں ہونی چاہیے اور وہ اس کا نام ہدایت رکھ لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ہدایت نہیں۔ہدایت وہی ہے جو حق کے ساتھ ہو۔پس جو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں تم صرف انہیں پیش کرو اور اُن کے ذریعہ سے ہی انسانوں کے دماغوں کو ٹھیک کرو اور اُنہی کے مطابق عدل قائم