خطبات محمود (جلد 36) — Page 235
1955ء 235 خطبات محمود جلد نمبر 36 پھر یہ شخص ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں سناتا اور ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اپنی زبان سے ہمیں وہ باتیں سنا رہے ہیں۔ لیکن اے خدا ! ابھی ہمارے تعلقات تیرے ساتھ پختہ نہیں ہوئے ۔ اگر یہ شخص مر گیا تو ہم بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں گے اور ہمارا براہ راست تجھ سے تعلق پیدا نہیں ہوگا۔ اس لیے اے خدا! ابھی ضرورت ہے کہ اس شخص کو دنیا میں زندہ رکھا جائے تا یہ ہمیں تیرے ساتھ وابستہ رکھے اور تیری باتیں ہمیں سنا تا ر ہے اور کی ہمیں یوں معلوم ہو کہ وہ باتیں تو خود ہمیں سنا رہا ہے۔ اس رویا میں جو نظارہ میں نے دیکھا اور جس کرب و اضطراب کے ساتھ میں نے جماعت کے دوستوں کو روتے اور دعائیں کرتے دیکھا اُس کی دہشت کی وجہ سے میری طبیعت خراب ہوگئی۔ لیکن چند دن کے بعد پھر سنبھل گئی ۔ اس کے بعد میں نے یورپ سے پاکستان تک کا لمبا سفر کیا جس کی وجہ سے طبیعت نے کوفت محسوس کی ۔ لیکن کراچی پہنچ کر طبیعت اچھی ہوگئی ۔ ۔ اسکے بعد یہاں آکر طبیعت پھر خراب ہو گئی لیکن اب پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے صحت میں ترقی محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن چونکہ مجھے رویا میں بتایا گیا ہے کہ میری صحت کا دارو مدار دوستوں کی دعاؤں پر ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ دواؤں سے نہیں بلکہ دعاؤں سے تعلق رکھتا ہے۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ میری صحت کے لیے دعا کریں۔ اگر آپ لوگوں میں سے کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ میرا وجود اسلام اور احمدیت کے لیے ترقی کا موجب ہے اور اس سے انہیں فائدہ پہنچ رہا ہے تو میرا حق ہے کہ وہ میری صحت کے لیے دعا کرے۔ کیونکہ ایسا وجود جو بیکار اور تھکا ہوا ہو سلسلہ کا کیا کام کر سکتا ہے ۔ مثلاً آج میری طبیعت اچھی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی مخالف شدید سے شدید اعتراض بھی اسلام پر کرے تو میں اُس کا جواب دے سکتا ہوں ۔ لیکن اگر میری طبیعت اچھی نہ ہو تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ ڈاکٹروں سے جب میں نے اس امر کی شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ بیماری کی وجہ سے آپ کی حالت ایک بچہ کی سی ہوگئی ہے۔ اب آپ کو نئے سرے سے سب کچھ سیکھنا پڑے گا۔ آپ کو بچے کی طرح چلنا بھی سیکھنا پڑے گا ، بولنا بھی سیکھنا پڑے گا اور لکھنا بھی سیکھنا پڑے گا ۔ اور یہ ظاہر ہے کہ انسان ہمت سے ہی سیکھ سکتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ ہمت دے تو میں یہ تمام باتیں نئے سرے سے سیکھ لوں۔ یورپ میں میں کچھ پڑھنے لگ گیا تھا۔ اور کراچی میں تو اخبار کے دو دو صفحے بھی