خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 236

$1955 236 خطبات محمود جلد نمبر 36 پڑھ لیتا تھا۔لیکن اب پھر پڑھنے سے گھبرا جاتا ہوں۔گواتنا فرق ضرور ہے کہ پہلے جو مجھے گھبراہٹ سی کی ہوتی تھی وہ اب نہیں ہوتی اور میں بیٹھ کر کسی قدر کام کر لیتا ہوں۔لیکن کسی معاملہ پر لمبا غور نہیں کر سکتا۔اس لیے میں نے خطبات لکھنے والے محکمہ سے کہا ہے کہ وہ میرے خطبے اپنی ذمہ داری پر شائع کر دیا کی کریں۔کیونکہ مسودات پر نظر ثانی کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔جب کچھ طبیعت سنبھل گئی تھی تو میں سمجھتا تھا کہ میں اس سال پہلے سالوں کی طرح جلسہ سالانہ کے موقع پر بڑی شان سے تقریر کر سکوں گا۔لیکن پھر بیماری کی وجہ سے مجھے خیال گزرا کہ شاید میں دس منٹ بھی تقریر نہ کر سکوں۔اب میری طبیعت خدا تعالیٰ کے فضل سے نسبتاً بہتر ہے۔چنانچہ چند دن پیشتر تو میں چند منٹ بھی بولتا تھا تو تھک جاتا تھا۔لیکن اب گھنٹہ بھر بھی تقریر کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں۔یہ تغیر دوستوں کی دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے۔جماعت جب دعاؤں پر زور دیتی ہے تو میری صحت ترقی کرنے لگ جاتی ہے۔پس اگر جماعت واقع میں یہ بجھتی ہے کہ میرے وجود سے اسلام اور احمدیت کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ میرے لئے دعائیں کرے تا کہ خدا تعالیٰ مجھے اس قابل بنا دے کہ میں کام کرسکوں۔اگر میں کام نہ کر سکوں تو طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ مجھے کام کرنے کی طاقت دے تو یہ دیکھ کر کہ میں سلسلہ کی خدمت کر رہا ہوں اور وہ میری وجہ سے ترقی کر رہا ہے آپ لوگوں کو بھی خوشی محسوس ہوگی اور مجھے بھی خوشی ہوگی کہ مجھے جو سانس آتا ہے وہ اسلام اور احمدیت کی خدمت میں آرہا ہے اور مجھے اور تم کو خدا تعالیٰ کے اور قریب کر رہا ہے۔اس طرح مجھے بھی راحت نصیب ہوگی اور تمہیں بھی راحت نصیب ہوگی۔اور پھر صرف آج ہی نہیں بلکہ آئندہ بھی اُس کی مدد اور نصرت ہمیشہ آتی رہے گی۔پس تم اس نکتہ پر غور کرو جو میں نے بیان کیا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو۔“ 1 الاحزاب: 41 (الفضل 18 /نومبر 1955ء) تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ 44 نمبر 64 و مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 232 نمبر 75 زیر عنوان : تقریر واجب الاعلان متعلق ان حالات و واقعات کے جو مولوی سید محمد نذیرحسین صاحب ملقب به شیخ الکل سے جلسہ بحث 20 را کتوبر 1891ء کو ظہور ہوئی از غلام احمد قادیائی۔23 اکتوبر 1891 ء از مقام دہلی۔