خطبات محمود (جلد 36) — Page 205
1955ء 205 خطبات محمود جلد نمبر 36 اعلان کرتا ہوں کہ تحریک جدید کے وعدے لینے کے ذمہ دار ہر جماعت کے امیر اور صوبائی امیر ہیں۔ مجھ میں زیادہ بولنے اور لمبی تقریر کرنے کی ہمت نہیں ۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں کچھ بول لیتا ہوں ۔ ورنہ جب مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تھا میں کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد میں دو سوٹیوں کے سہارے چل سکتا تھا ۔ لیکن اب خدا تعالیٰ کے فضل سے سوٹی کے بغیر ہی میں چل لیتا ہوں ۔ بہر حال میری صحت ابھی اس قابل نہیں کہ میں لمبی تقریر کر سکوں۔ میں ہر جماعت کے امیر کے ذمہ یہ بات لگاتا ہوں کہ وہ دفتر سے اپنی جماعت کے پچھلے سال کے وعدوں کی لسٹ لے لے اور کوشش کرے کہ اس سال کے وعدے پچھلے سال سے زیادہ ہوں اور مجھے اطلاع بھجوائے کہ انہوں نے پچھلے سال کے وعدوں پر کس قدر زیادتی سے نئے سال کے وعدے لکھوائے ہیں ۔ کام کام چونکہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس سال چندہ تحریک جدید پچھلے سال سے ڈیوڑھا ہو۔ تم کہو گے کہ ڈیوڑھا چندہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ میں کہوں گا کہ تم ڈیوڑھے ہو جاؤ تو چندہ بھی ڈیوڑھا ہو سکتا ہے۔ اگر تم ڈیڑھ ہزار گنا ہو جاؤ تو پھر کوئی مشکل ہی نہیں رہتی ۔ صرف ہمت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ جہاں تم خود اس تحریک میں حصہ لو وہاں اپنے بیوی بچوں کو بھی اس خدمت میں شامل کرو ۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ وہ لوگ جو جماعت میں با قاعدہ شامل نہیں ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ وہ بھی تبلیغ اسلام کے کام میں شریک ہوں تم اُن کے پاس بھی جاؤ اور اُن سے چندہ لو تا کہ تحریک جدید کی مشکلات دور ہوں ۔ آج ہی مجھے پتا لگا ہے کہ اس سال تحریک جدید کا چندہ پچھلے سال سے کم آیا ہے اور دفتر اس قابل نہیں کہ وہ اپنے کارکنوں کو گزشتہ ماہ کی تنخواہیں بھی دے سکے ۔ حالانکہ یہ کام تو اس طرح ہونا چاہیے کہ ہر سال دفتر تبشیر اپنے مشنوں کی تعداد میں اضافہ کرتا جائے ۔ لیکن چندہ پوری مقدار میں جمع نہیں ہوتا جس کی وجہ سے مجھے نئی سکیم بنانی پڑی ہے۔ امریکہ والے اگر کوشش کریں تو اُن کے چندوں میں کافی زیادتی ہوسکتی ہے۔ ضرورت صرف جنون کی ہے۔ اگر تمہارے اندر کام کرنے کا جنون پیدا ہو جائے تو یہ مشکلات آپ ہی آپ دور ہو جائیں گی ۔ لندن میں بھی ہمارا بہت پرانا مشن ہے۔ لیکن ابھی تک وہ اپنا بوجھ خود نہیں اٹھا سکا۔ اب وہ اس بارہ میں کوشش کرنے لگے ہیں ۔ آجکل لندن مسجد کے امام مولود احمد صاحب ہیں جو بہت نیک نوجوان ہیں ۔ خدا تعالیٰ