خطبات محمود (جلد 36) — Page 193
$1955 193 خطبات محمود جلد نمبر 36 کرنے والوں کا بھی حق ہے تو ہماری بہت سی مشکلات آپ ہی آپ حل ہو جائیں اور تبلیغ کا دائرہ پہلے سے بہت زیادہ وسیع ہو جائے۔پس تم اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف کرو اور پھر نسلاً بعد نسل وقف کرتے چلے جاؤ۔میں نے کراچی میں تحریک کی تھی کہ دوست خاندانی طور پر اپنی زندگیاں وقف کریں یعنی ہر شخص یہ اقرار کرے کہ میں اپنے خاندان میں سے کسی نہ کسی فرد کو دین کی خدمت کے لیے ہمیشہ وقف رکھوں گا۔وہی تحریک میں اب بھی کرتا ہوں اور جماعت سے خاندانی طور پر کسی نہ کسی فرد کو وقف کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔اگر جماعت اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف کی ایک رو پیدا ہو جائے گی اور ہمیں کثرت سے واقفین ملنے لگ جائیں گے۔اب تو یہ حالت ہے کہ اگر ایک نوجوان اپنی زندگی وقف کرتا ہے تو دوسرا اپنی حماقت سے اُسے روکنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو زیادہ کر دے تو ان واقفین کا گزارہ چلانا مشکل نہیں ہو گا۔کیا تم جانتے ہو کہ عیسائیوں نے پوپ کے گزارہ کے لیے کیا انتظام کر رکھا ہے؟ انہوں نے اس کے لیے ایک عجیب انتظام کیا ہوا ہے۔مسلمانوں میں تو نذرانہ اور تحفہ کا رواج ہے اور اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ اگر بغیر سوال کرنے کے کوئی شخص ہد یہ یا نذرانہ دے تو اُسے قبول کر لینا چاہیے۔اس میں برکت ہوتی ہے۔لیکن عیسائیوں نے پوپ کے لیے یہ طریق جاری کیا ہوا ہے کہ ہر عیسائی سال میں ایک پینی (Penny) پوپ کو دیا کرے۔پادری سب کو بلاتا ہے اور اُن سے پوپ کی ایک پینی مانگتا ہے۔اور اس طرح ایک بہت بڑی رقم جمع ہو جاتی ہے۔اس وقت دنیا میں قریباً تینتیس کروڑ کیتھولک ہیں۔اگر وہ سب ایک ایک پینی دیں تو قریباً چودہ لاکھ پونڈ رقم بن جاتی ہے جو پوپ کو پیش کی جاتی ہے اور وہ بادشاہوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔پس خاندانی طور پر اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف کرو اور عہد کرو کہ تم اپنی اولا د در اولا د کو وقف کرتے چلے جاؤ گے۔پہلے تم خود اپنے کسی بچے کو وقف کرو۔پھر اپنے سب بچوں سے عہد لو کہ وہ اپنے بچوں میں سے کسی نہ کسی کو خدمت دین کے لیے وقف کریں گے۔اور پھر اُن سے یہ عہد بھی لو کہ وہ اپنے بچوں سے عہد لیں گے کہ وہ بھی اپنی آئندہ نسل سے یہی مطالبہ