خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 183

خطبات محمود جلد نمبر 36 183 $1955 اور جیالوجی والے کہتے ہیں کہ چونکہ دس دس بیس بیس لاکھ سال بلکہ کروڑوں سال سے یہ پانی گرتا رہا ہے اس لئے اب پہاڑوں میں بڑی بڑی غاریں بن گئی ہیں۔مگر انسانی زندگی اور انسانی سکیمیں اتنی لمبی نہیں چلتیں۔یا کم از کم تاریخ ہمیں کسی اتنی لمبی زندگی یا اتنے لمبے عرصہ تک چلنے والی سکیم کا پتا نہیں دیتی۔دنیا میں لمبی سے لمبی تاریخ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دکھائی دیتی ہے جن کے زمانہ پر قریباً چار ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام سے تیرہ سو سال قبل مبعوث ہوئے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوئی چھ سات سو سال قبل گزرے ہیں۔گویا دو ہزار سال تو یہ ہو گئے۔پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے اب تک قریباً دو ہزار سال اور گزر چکے ہیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ پر قریباً چار ہزار سال گزر جانے کے باوجود آپ کے ماننے والے اب تک دنیا میں موجود ہیں جو آپ کے لائے ہوئے پیغام کو پھیلا رہے ہیں۔بے شک وہ دنیوی لوگوں کی نگاہ میں پاگل ہوں لیکن ہماری نظر میں وہ بڑے مستقل مزاج ہیں۔کیونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چار ہزار سال قبل کے لائے ہوئے پیغام کو اب بھی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔دوسرا لمبا سلسلہ جس کا تاریخ سے ہمیں پتا لگتا ہے حضرت مسیح علیہ السلام کا ہے۔اس پر 1900 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن آپ کے ماننے والوں میں آج تک ایسے خدا کے بندے موجود ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے لائے ہوئے دین کی تبلیغ کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے رہتے ہیں۔اگر چہ ان میں جہالت کے ایسے زمانے بھی آئے جب وہ ننگے پھرتے تھے اور پھر ایسے زمانے بھی آئے جب ان کے پاس بڑی مقدار میں دولت جمع ہوگئی جیسے آجکل یورپ اور امریکہ کی حالت ہے۔لیکن انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے لائے ہوئے پیغام کو پھیلانے کا کام ہر زمانہ میں جاری رکھا۔نہ غربت میں انہوں نے تبلیغ کو چھوڑا اور نہ امارت میں تبلیغ سے عدم توجہی کی۔نہ ماتحتی کے زمانہ میں انہوں نے اس کام کو ترک کیا اور نہ حکومت کے زمانہ میں وہ اس سے غافل ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ 1900 سال کے عرصہ میں انہوں نے مسلمانوں سے دگنے سے بھی زیادہ عیسائی بنالئے ہیں اور اب بھی وہ اس کام میں برابر لگے ہوئے ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے باقاعدہ وقف کی تحریک جاری نہیں کی۔صرف اس قدر کہا تھا