خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 179

خطبات محمود جلد نمبر 36 179 $1955 اپنے اندر پیدا کرے کہ خدا تعالیٰ کا الہام اور اس کا کلام اس پر نازل ہونے لگ جائے۔دیکھو! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جتنا تغیر دنیا میں پیدا کیا ہے وہ صرف کتابوں کے ذریعہ نہیں کیا۔بلکہ وہ تغیر اس طرح پیدا ہوا ہے کہ آپ نے رات دن اس کے لیے دعائیں کیں جن کی وجہ سے آپ کے اندر خدا تعالیٰ کا نور پیدا ہو گیا۔جو شخص اس نور کو دیکھتا تھا اس کے اندر اشاعت اسلام کی آگ لگ جاتی تھی اور پھر وہ آگ آگے پھیلتی جاتی تھی۔پس تم اس بات پر ہی خوش نہ ہو جاؤ کہ تم نے مولوی فاضل پاس کر لیا ہے یا شاہد کا امتحان پاس کر لیا ہے۔بلکہ دعاؤں کی عادت ڈالو اور اتنی دعائیں کرو کہ رات اور دن تمہارا شیوہ ہی دعائیں کرنا ہو۔تم اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے دعاؤں میں لگ جاؤ۔اگر تمہارے کسی ساتھی کی طرف سے کوئی خرابی بھی پیدا ہو گی تو تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی دعائیں اُس کا ازالہ کر دیں گی۔جیسا کہ احباب کو معلوم ہے کہ کراچی سے ربوہ آکر میری طبیعت زیادہ کمزور ہوگئی ہے۔کراچی میں طبیعت اچھی ہوگئی تھی۔ویسے یورپ میں بھی گھبراہٹ اور بے چینی کے حملے ہوتے تھے مگر وہ حملے جلد دور ہو جاتے تھے۔گھنٹے دو گھنٹے کے بعد ان حملوں کا اثر زائل ہو جاتا تھا۔لیکن یہاں دن کے بعد دن ایسا گزرتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا سر میں ہتھوڑے چل رہے ہیں۔صرف کل کا دن ایسا آیا ہے جس میں میں نے کسی قدر آرام محسوس کیا ہے۔لیکن شام کے بعد طبیعت پھر خراب ہوگئی۔تم نے دعاؤں اور گریہ وزاری کے ساتھ میری جان بچانے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ نے میری جان بچالی۔مگر جب تک میری طبیعت بالکل درست نہ ہو جائے میرے لیے کام کرنا مشکل ہے۔کیونکہ محض سانس لینے والا انسان کام نہیں کر سکتا۔کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کے دل کو اطمینان اور سکون نصیب ہو۔پس دعائیں کرو بلکہ دعاؤں کی اس طرح عادت ڈالو کہ تمہاری دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے عرش کے پائے بھی ہل جائیں۔اور وہ اپنی رحمانیت کے ماتحت اپنے بنائے ہوئے قانون وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ 1 کی وجہ سے تمہاری دعاؤں کو سنے اور دنیا میں اسلام کی اشاعت کی داغ بیل ڈالے۔خلیل احمد ناصر مبلغ امریکہ جو آج کل یہاں آئے ہوئے ہیں انہیں میں نے ایک دن پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سفید لوگوں میں تبلیغ کی طرف زیادہ توجہ کریں۔آج