خطبات محمود (جلد 36) — Page 175
$1955 175 خطبات محمود جلد نمبر 36 کے لیے یہ جوش قائم رہے اور آگے انکی اولاد در اولاد اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف کرتی چلی جائے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باقی اولادکو بھی یہ سمجھ آ جائے کہ پندرہ سویا دو ہزار روپیہ ماہوار کمانا کوئی چیز نہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ انسان دین کی خدمت میں اپنی زندگی گزارے۔باقی میرے ساتھ وقف کرنے والوں میں سے ایک چودھری فتح محمد صاحب سیال تھے۔چودھری صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ انہوں نے اپنے ایک لڑکے کو اعلی تعلیم دلانے کے بعد دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔دوسرے درد صاحب تھے اگر ان کی اولاد میں سے کوئی لڑکا اچھا پڑھ جاتا تو وہ اُسے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیتے۔مگر کچھ ایسا پردہ پڑا ہوا ہے کہ ابھی تک ان کی اولاد میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہوا کہ وہ دین کے لیے اپنی زندگی وقف کر سکے۔باقی سب لوگوں کے خانے خالی ہیں۔حالانکہ اسلام دنیا میں اُس وقت تک کبھی غالب نہیں آسکتا جب تک مسلسل اور متواتر ہم میں زندگیاں وقف کرنے والے لوگ پیدا نہ ہوں۔دیکھ لو رسول کریم ﷺ کے قریباً پانچ سو سال بعد ایک بزرگ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی ” ہوئے اور انہوں نے ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کی۔ان کے بعد ان کے خلفاء ہوئے جنہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں اسلام کی اشاعت کی۔مثلاً حضرت خواجہ فرید الدین صاحب نے سارے پنجاب میں اسلام پھیلایا۔پھر آپ کے کچھ اور شاگردوں نے جنوبی ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کو اسلام میں داخل کیا۔جب آپ ہندوستان میں تشریف لائے تھے اُس وقت ہندوستان کی آبادی صرف ایک کروڑ تھی۔لیکن تمہارے مقابلہ میں اب اڑھائی ارب لوگ ہیں جن کو تم نے ہدایت کی طرف لانا ہے۔اگر ہندوستان کے ایک کروڑ لوگوں کے لیے پانچویں چھٹی صدی میں ایک معین الدین چشتی کی ضرورت تھی تو اب اڑھائی ارب لوگوں کے لئے دو سو سال تک بیسیوں معین الدین چشتی " جیسے وجودوں کی ضرورت ہے۔اور یہ بیسیوں معین الدین چشتی " پیدا کرنے مشکل نہیں۔بشرطیکہ تم اس کے لیے کوشش کرو اور تمہارا اپنا وقف ہی نہ ہو بلکہ تمہاری اولاد در اولاد میں وقف کا سلسلہ چلتا چلا جائے۔تم اس وقت اپنی غربت کی طرف نہ دیکھو تم خدا تعالیٰ کی طرف دیکھو اور یاد رکھو وہ وقت