خطبات محمود (جلد 36) — Page 164
$1955 164 خطبات محمود جلد نمبر 36 قیمت نہ تھی۔اور ہم اُس سے اس قدر نا واقف تھے کہ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی وفات کے بعد ایک دن ہمارے نانا جان والدہ صاحبہ کے پاس آئے اور انہوں نے غصہ میں رجسٹر زمین پر پھینک دیئے اور کہا کہ میں کب تک بڑھا ہو کر بھی تمہاری خدمت کرتا رہوں۔اب تمہاری اولاد جوان ہے اس سے کام لو اور زمینوں کی نگرانی ان کے سپر د کرو۔والدہ نے مجھے بلایا اور رجسٹر مجھے دے دیئے اور کہا کہ تم کام کرو تمہارے نانا یہ رجسٹر پھینک کر چلے گئے ہیں۔میں اُن دنوں قرآن اور حدیث کے مطالعہ میں ایسا مشغول تھا کہ جب زمینوں کا کام مجھے کرنے کے لیے کہا گیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے مجھے قتل کر دیا ہے۔مجھے یہ بھی پتا نہیں تھا کہ جائیداد ہے کیا بلا اور وہ کس سمت میں ہے۔مغرب میں ہے یا مشرق میں ، شمال میں ہے یا جنوب میں ، میں نے زمینوں کی لٹیں اپنے ہاتھ میں لے لیں اور افسردہ شکل بنائے گھر سے باہر نکلا۔مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ حق اولاد در اولاد کا الہام کیا کام کر رہا ہے۔میں جو نہی باہر نکلا ایک صاحب مجھے ملے اور کہنے لگے میاں صاحب! میں نے سنا ہے کہ آپ کو زمینوں کے لیے کسی نوکر کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا آج نانا جان غصہ میں آکر والدہ کے سامنے رجسٹر پھینک کر چلے گئے ہیں۔اور میں حیران ہوں کہ یہ کام کس طرح کروں۔کہنے لگے میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔میں نے کہا آپ شوق سے یہ کام سنبھالیں در حقیقت یہ آپ کا ہی حق ہے۔مگر آپ لیں گے کیا ؟ کہنے لگے آپ مجھے صرف دس روپے دے دیجئے۔میں نے کہا دس روپے؟ میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔کہنے لگے آپ فکر نہ کریں بڑی بھاری جائیداد ہے۔اور میری تنخواہ اس میں سے بڑی آسانی کے ساتھ نکل آئے گی۔میں نے اُس وقت بغیر پڑھے رجسٹر اُن کے حوالے کر دئیے۔اور کہا کہ اگر آپ دس روپے پیدا کر سکیں تو لے لیجئے ورنہ میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔انہی دنوں قرآن کریم کے پہلے انگریزی پارہ کی اشاعت کا سوال پیدا ہوا۔اُس پارہ کے لیے میں اُردو میں مضمون لکھتا تھا اور ماسٹر عبد الحق صاحب مرحوم اُس کا انگریزی میں ترجمہ کرتے جاتے تھے۔وہ اتنا اعلیٰ ترجمہ کرنے والے تھے کہ آج تک یورپ سے خطوط آتے رہتے ہیں کہ آپ کے پہلے پارہ کی زبان نہایت شان دار ہے۔اور پھر وہ اتنی جلدی ترجمہ کرتے تھے کہ