خطبات محمود (جلد 36) — Page 163
خطبات محمود جلد نمبر 36 163 $1955 میں چھوٹا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وفات پاگئے۔آپ کی وفات کے بعد والدہ مجھے بیت الدعا میں لے گئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں والی کاپی میرے سامنے رکھ دی اور کہا کہ میں سمجھتی ہوں یہی تمہارا سب سے بڑا ورثہ ہے۔میں نے اُن الہامات کو دیکھا تو اُن میں ایک الہام آپ کی اولاد کے متعلق یہ درج تھا کہ حق اولاد در اولاد اسی طرح ایک اور الہام درج تھا جو منذ رتھا اور اُس کے نیچے لکھا تھا کہ جب میں نے یہ الہام محمود کی والدہ کو سنایا تو وہ رونے لگ گئیں۔میں نے کہا کہ تم یہ الہام مولوی نورالدین صاحب کے پاس جا کر بیان کرو۔انہوں نے محمود کی والدہ کو تسلی دی اور کہا کہ یہ الہام منذ نہیں بلکہ مبشر ہے۔حق اولاد در اولاد کے معنی در حقیقت یہی تھے کہ وہ حق جو باہر سے تعلق رکھتا ہے یعنی زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ میں حصہ، یہ کوئی زیادہ قیمتی نہیں۔زیادہ قیمتی یہ چیز ہے کہ میں نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں وہ قابلیت رکھ دی ہے کہ جب بھی یہ اس قابلیت سے کام لیں گے دنیا کے لیڈر ہی بنیں گے۔باقی ورثہ ضائع ہو جاتا ہے مگر یہ وہ ورثہ ہے کہ جو کبھی ضائع نہیں ہوسکتا۔اور یہ وہ ورثہ ہے جو ہم نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں مستقل طور پر رکھ دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بعد میں جو کچھ بھی ملا حق اولاد در اولاد کی وجہ سے ہی ملا۔اور میں نے جتنے کام کیے اپنی دماغی اور ذہنی قابلیت کی وجہ سے ہی کیے۔ورنہ مجھ سے زیادہ کتابیں پڑھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے۔اگر اُن کے دماغوں میں بھی وہی قابلیت ہوتی جو مجھ میں ہے تو دنیا میں دس ہزار محمود اور بھی ہوتا۔لیکن اگر ساری دنیا میں صرف ایک ہی محمود ہے تو اس کی وجہ وہی حق اولاد در اولاد ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارا اور شہ ہمارے دماغوں کے اندر رکھ دیا ہے اور یہ وہ دولت ہے جسے کوئی شخص پُر انہیں سکتا۔جیسے حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا جو کچھ تم زمین پر جمع کرو گے اُسے کیڑا کھا جائے گا۔لیکن اگر تم آسمان پر جمع کرو تو وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ رہے گا اور کوئی کیڑا اُسے نہیں کھا سکے گا۔2 اسی طرح جائیدادیں تباہ کی جاسکتی ہیں ، زمینیں چھینی جاسکتی ہیں، لیکن ترقی کی وہ قابلیت جو دماغوں کے اندر ودیعت کر دی گئی ہوا سے کو ئی شخص چھین نہیں سکتا۔چنانچہ دیکھ لو وہی جائیداد جس کا حساب میں نے کروڑوں میں لگایا ہے اور جو شاید چند سالوں کے بعدار بوں کی جائیداد بن جاتی وہی ہمارے شریک بھائیوں کے سپرد تھی۔مگر اس کی کوئی