خطبات محمود (جلد 36) — Page 162
1955ء 162 خطبات محمود جلد نمبر 36 کی ہے اور سلسلہ کی غیر معمولی خدمت کی ہے اِسی طرح میں نے بھی کی ہے ۔ چنانچہ اب تک تحریک جدید میں میں نے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ چندہ دیا ہے۔ لیکن اگر وہ خطبات جو تحریک جدید کے لیے میں نے پڑھے ہیں نہ پڑھتا اور صرف ساڑھے تین لاکھ روپیہ چندہ دے دیتا تو ساڑھے تین لاکھ سے ساری دنیا میں تبلیغ اسلام نہیں ہو سکتی تھی ۔ یہ تبلیغ اسلام تو میرے وقف کی وجہ سے ہوئی ہے۔ پس بے شک روپیہ بھی ایک قیمتی چیز ہے۔ لیکن روپیہ کے با وجود پھر بھی وقف کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پس وہ دوست جن کے دلوں میں میرے خطبہ کی وجہ سے وقف کی تحریک ہوئی ہے اُن سے میں کہتا ہوں کہ تم سوچو اور مشورہ لومگر صرف اُنہی لوگوں سے مشورہ لو جو تمہیں مشورہ دینے کے اہل ہوں ۔ بلکہ اگر تم صحیح مشورہ لینا چاہتے ہو تو مجھ سے لو ۔ دوسروں کو کیا پتا ہے کہ سلسلہ کو کسی قسم کے واقفین کی ضرورت ہے، کس قسم کا علم رکھنے والوں کی ضرورت ہے، کسی قسم کا تجربہ رکھنے والوں کی ضرورت ہے اور پھر ان کے کتنے وقت کی سلسلہ کو ضرورت ہے ۔ مجھے پتا ہے کہ سلسلہ کے لیے کس قسم کے کام کا تجربہ رکھنے والوں کی ضرورت ہے ، کس قسم کے علم والوں کی ضرورت ہے اور کتنا وقت دے کر وہ سلسلہ کی خدمت کر سکتے ہیں ۔ اس بارہ میں صحیح مشورہ انہیں مجھ سے ہی مل سکتا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر صحیح طریق پر کام کیا جائے تو ایک وکیل وکالت کرتے ہوئے بھی سلسلہ کی خدمت کر سکتا ہے۔ اور ایک زمیندار زمیندارہ کرتے ہوئے بھی سلسلہ کی خدمت کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ مشورہ صحیح آدمی سے لے ۔ جب تک میرے دم میں دم ہے میں تمہیں صحیح مشورہ دینے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ۔ پس مجھ سے مشورہ لو اور کوشش کرو کہ تم اپنے آپ کو اُن لوگوں کی صف میں لے آؤ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَئِكَ مِنْكُمْ یعنی وہ لوگ ایمان تو بعد میں لائے اور انہوں نے ہجرت بھی بعد میں کی اور جہاد بھی بعد میں کیا۔ لیکن پھر بھی وہ صحابہ میں شامل ہوں گے ۔ پس صحابہ میں ملنا تمہارے لئے مشکل نہیں ۔ اگر تم کوشش نہ کرو تو اور بات ہے ۔ ورنہ خدا نے تمہارے اندر وہ قابلیت رکھ دی ہے جس سے اگر تم کام لو تو تم صحابہ میں شامل ہو سکتے ہو۔