خطبات محمود (جلد 36) — Page 161
$1955 161 خطبات محمود جلد نمبر 36 متاثر ہوا کہ ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے مخلص وجود پیدا کیے ہیں۔یہ چودھری رستم علی صاحب تھے جو محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔اسی طرح میں نے کئی دفعہ سیٹھ عبداللہ بھائی کی خدمات کا ذکر کیا۔اب تو پارٹیشن اور ہندوستانی گورنمنٹ کے مظالم کی وجہ سے ان کی تجارت ویسی نہیں رہی لیکن ساری عمر ان کی یہی کیفیت رہی کہ جو روپیہ بھی اُن کے پاس آتا وہ اسے سلسلہ پر خرچ کر دیا کرتے اور اب بھی وہ اسی رنگ میں قربانی کرتے جارہے ہیں۔پس بے شک ہماری جماعت میں ایسے افراد ہیں جو مالی لحاظ سے سلسلہ کے کاموں میں غیر معمولی حصہ لیتے ہیں۔لیکن ان افراد سے جو سلسلہ کو فائدہ پہنچا ہے کیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تصنیف کے بھی برابر ہے؟ یا سلسلہ کے قائم کرنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے جو وقت صرف کیا اگر اُس وقت کو سلسلہ کے لیے صرف کرنے کی بجائے آپ اپنے زمینداره کام میں لگ جاتے تو کیا سلسلہ کو اتناہی فائدہ پہنچتا جتنا اب پہنچا ہے؟ یا میں ہی اگر اپنے زمینداره کام میں مشغول ہو جاتا تو میرے ذریعے سلسلہ کو وہ فائدہ پہنچ سکتا تھا جو اب پہنچا ہے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں نے زمیندارہ کام بھی کیا ہے لیکن جب زمینوں کا کام اتنا بڑھا کہ میں نے سمجھا اب اگر میں نے اس کی طرف توجہ کی تو سلسلہ کے کام کو نقصان پہنچے گا تو میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو بلوایا اور زمین کے کاغذات اُن کے سپر د کر دئیے۔اور خود میرے پاس جتنا وقت تھا وہ سارے کا سارا میں نے اس سلسلہ کے لیے وقف کر دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں یہ کام خود بھی چلا سکتا تھا مگر اُن کے سپرد کرنے میں مجھے یہ فائدہ ہوا کہ میں زمینوں کے کام سے فارغ ہو کر سلسلہ کے کاموں میں زیادہ تن دہی سے مصروف ہو گیا۔پھر سندھ کی زمینیں ملیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ملازموں سے کام لینے کی توفیق عطا فرما دی۔بے شک ملازموں پر کام کا انحصار رکھنے کی وجہ سے مجھے نقصان بھی ہوتا تھا لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ زیادہ وقت اُدھر صرف کروں۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ سلسلہ کو میرے وقت کی زیادہ ضرورت ہے۔لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مجھے مالی لحاظ سے بھی سلسلہ کی خدمت کی توفیق عطا فرما دی۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح سیٹھ عبد اللہ بھائی اور بعض دوسرے دوستوں نے قربانی