خطبات محمود (جلد 36) — Page 160
$1955 160 خطبات محمود جلد نمبر 36 دیتا اور وہ کام نہ کرتا جو میں نے کیا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ نو کروڑ اس کام کے برابر ہو سکتے تھے؟۔یا کیا وہ نو کروڑ کی جائیداد میری لکھی ہوئی تفسیر کے ایک صفحہ کے برابر بھی ہو سکتی تھی ؟ میری تفسیر قرآن کا ایک صفحہ اس کروڑ سے ہزاروں گنا زیادہ قیمتی ہے اور ہزاروں گنے زیادہ فائدہ مند ہے۔پس مجھے تعجب ہوا کہ اُس دوست نے یہ کیا بات کہی ہے۔وہ دوست نہایت مخلص ہیں اور ساری عمر انہوں نے خدمت سلسلہ میں گزاری ہے۔مگر پھر وہ اس وہم میں مبتلا ہو گئے کہ روپیہ دینا بھی خدمت ہے۔بے شک ہماری جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے مالی لحاظ سے سلسلہ کی بہت بڑی خدمت کی ہے اور ہم اُن کی قدر کرتے ہیں لیکن جن لوگوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے لیے وقف کر دیں اور رات اور دن وہ خدمت سلسلہ میں مصروف رہے اُن کے وجود سے ہمارے سلسلہ کو جو فائدہ پہنچا ہے وہ روپیہ کے ذریعہ خدمت کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔مجھے یاد ہے میری پندرہ سال کی عمر تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ بیمار ہو گئے۔اُن دنوں جو ڈاک آیا کرتی تھی وہ آپ کی بیماری کی وجہ سے میں ہی آپ کو پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک منی آرڈر آپ کے نام آیا جو - 180 روپیہ کا تھا۔اور ساتھ ہی خط تھا جس میں لکھا تھا کہ یہ روپیہ چندے کا نہیں بلکہ حضور کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش ہے۔اس میں سے 80 روپے تو وہ ہیں جو میں ہمیشہ ماہوار حضور کو بھیجا کرتا ہوں اور 100 روپیہ زائد اس لیے ہے کہ پہلے میری تنخواہ -/180 روپیہ تھی جس میں سے 80 روپے میں حضور کو نذرانہ بھجوا دیا کرتا تھا۔اب مجھے یکدم سب انسپکٹر پولیس سے ترقی دے کر پراسیکیوٹنگ انسپکٹر بنا دیا گیا ہے اور -/280 روپے تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مجھے یکدم یہ 100 روپیہ جو ترقی ملی ہے محض حضور کے لیے ملی ہے اس لیے سو روپے وہ جو اب بڑھے ہیں اور 80 روپے وہ جو میں ہمیشہ بھیجا کرتا ہوں حضور کی خدمت میں نذرانہ کے طور پر وا رہا ہوں۔اور چونکہ خدا نے مجھے -/180 سے -/280 روپیہ تک یکدم پہنچایا ہے اور یہ 100 روپیہ کی زیادتی میرے لیے نہیں بلکہ حضور کے لیے ہوئی ہے اس لیے میں آئندہ بھی ہمیشہ ایک 180 روپے ہی حضور کی خدمت میں بھجوایا کروں گا۔میں نے جب یہ خط پڑھا تو بڑا