خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 137

1955ء 137 خطبات محمود جلد نمبر 36 طرح کہتے ہیں کہ اسلام دنیا میں غالب آجائے گا ؟ آخر اسلام کے غالب آنے کا یہی طریق ہو سکتا ہے کہ ہم ان لوگوں کو قائل کریں، انہیں سمجھائیں اور ان سے اسلامی تعلیم کی فوقیت منوا لیں ۔ جب یہی طریق ہو سکتا ہے تو بتائیے ، ان سے اسلام منوانے کے لیے آپ کیا کوشش کر رہے ہیں؟ شاید آپ یہ جواب دیں کہ ہم چندہ دے رہے ہیں اور ہم مالی لحاظ سے اتنا بوجھ اٹھا رہے ہیں کہ شاید کوئی اور جماعت اتنا بوجھ نہیں اٹھا رہی ۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہماری جماعت مالی قربانی کر رہی ہے اور یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا ۔ دشمن بھی اقرار کرتا ہے کہ یہ جماعت بڑا بھاری بوجھ اپنے اوپر اٹھا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کراچی اور ربوہ میں چندہ دینے سے امریکہ اور انگلینڈ کے کسی آدمی کا دماغ کس طرح ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اُس کا دماغ تو اسی طرح درست ہو سکتا ہے کہ اُسے سمجھایا جائے کہ تیری رائے غلط ہے، تیرے ہو عقائد غلط ہیں اور صحیح رستہ وہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور یہ بات آپ لوگوں کے چندوں سے نہیں ہو سکتی ۔ آپ خود وہاں جائیں یا آپ کے نمائندے اور قائم مقام وہاں جائیں۔ تب یہ کام ہو سکتا ہے اس کے بغیر نہیں۔ شاید آپ کہیں کہ اسی لئے تو تبلیغی کا لج مقرر کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تبلیغی کالج میں کتنے بچے جارہے ہیں؟ جہاں تک میرا علم ہے تبلیغی کالج میں تک میراعلم ہے تبلیغی کالج میں 35,30 طالب علم ہیں اور دنیا کی آبادی دو ارب تمیں کروڑ ہے۔ دو ارب تمیں کروڑ کی آبادی کو 35 آدمی کس طرح سمجھا سکتے ہیں ؟ یہ 35 آدمی تو اُن کو دیکھ بھی نہیں سکتے ۔ پاس جانا جانا اور سمجھانا تو دور کی بات ہے خالی اُن کو دیکھ لینے کی بھی ان 35 آدمیوں میں طاقت نہیں ہو سکتی ۔ پس اسلام اگر غالب آ سکتا ہے تو اسی طرح کہ ہماری جماعت کوئی ایسا طریق اختیار کرے جس کے نتیجہ میں اُن لوگوں تک پہنچا جا سکے ۔ اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وقف کی تحریک کو کامیاب بنایا جائے ۔ مگر میرے نزدیک ہماری جماعت میں جیسے چندہ کی تحریک کامیاب رہی ہے ویسے ہی وقف کی تحریک ناکام رہی ہے۔ میں نے دوستوں میں وقف اولاد کی تحریک کی تھی ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب یا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کا وقف ہے اور یا پھر میری اولا د کا وقف ہے۔ باقی خانہ سب خالی ہے۔ مگر نہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولا د سب جگہ پہنچ سکتی ہے اور نہ میری اولا د سب جگہ پہنچ سکتی ہے۔ بلکہ اس تصور سے بعض دفعہ دل کانپ جاتا ہے