خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 129

خطبات محمود جلد نمبر 36 129 $1955 اور اُن کے کام کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں۔انگلستان ان کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے جیسے کسی زمانہ میں ہندوستانی انگریزوں کے مقابلہ میں تھے۔انگلستان کے لوگ بالکل سُست اور نکھے ہیں۔کام کریں گے تو ہاتھ پیچھے ڈالیں گے اور مزدوری پہلے مانگیں گے۔ان کی حالت بالکل پرانے زمانہ کے کشمیریوں کی سی ہو گئی ہے۔ایک دفعہ ہم کشمیر گئے اور اسباب اتارا تو ہم نے ایک مزدور کو بلایا کہ یہ سامان اٹھا کر ایک سرائے میں رکھ دو۔اُس نے کہا میں دو پیسے فی نگ لوں گا۔ہم نے کہا بہت اچھا! نگ اٹھاؤ اور رکھ دو، ہم تمہیں اجرت دے دیں گے۔مگر اُس کے لالچ کی یہ کیفیت تھی کہ وہ ہر نگ کے اٹھانے سے پہلے کہتا کہ "لا ؤ پونسہ " اور جب تک اُسے دو پیسے نہ دے دیئے جاتے وہ نگ نہ اٹھاتا۔میری اُس وقت چھوٹی عمر تھی۔میر محمد الحق صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ہم نے اُس کے ساتھ مذاق شروع کر دیا۔ایک ایک چیز پر ہم پیسے دیتے اور وہ اٹھا کر اندر رکھ دیتا۔جب ہم سرائے کے برآمدہ میں داخل ہوئے تو برآمدہ کے ساتھ ہم نے اپنی چھتری رکھ دی۔اس کے بعد ہمیں مذاق سُوجھا اور ہم نے کہا کہ اب اسے کہتے ہیں کہ یہ چھتری اٹھا کر دے دو۔دیکھیں اب بھی کچھ مانگتا ہے یا نہیں ؟ چنانچہ ہم نے اُسے کہا کہ یہ چھتری ہمیں پکڑا دو۔۔اس پر وہ جھٹ کہنے لگا " لا ؤ پونسہ " یہی انگریزوں کا حال ہے۔ان کا اپنا ملک گزشتہ جنگ کے نتیجہ میں تباہ پڑا ہے مگر وہ گرے ہوئے مکانوں کو بنا نہیں سکے۔اور جرمنی کی یہ حالت ہے کہ وہ لوگ صبح سے شام تک کام کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی ساری عمارتیں دوبارہ کھڑی کر لی ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان ملکوں میں اسلام کی طرف رغبت پیدا کر دی ہے۔اب ہمیں اُن کی اس رغبت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ فصل تو تیار ہے صرف اس کے کاٹنے والے چاہئیں۔اگر تم اس فصل کے کاٹنے والے بن جاؤ تو تم دیکھو گے کہ سارا یورپ ایک دن اسلام کی آغوش میں آجائے گا۔اس وقت مشکل یہ ہے کہ غلہ کو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔مگر بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ غلہ تمہارے لئے ہی رکھا ہوا ہے اور تم ہی اس فصل کے کاٹنے والے ہو۔جو مسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے اپنی کتب میں پیش کئے تھے آج یورپین دنیا اُنہی مسائل کی طرف آرہی ہے اور وہ اسلام کی فوقیت اور اس کی برتری کو تسلیم کر رہی ہے۔