خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 124

1955ء 124 خطبات محمود جلد نمبر 36 چونکہ مجھ پر ابھی بیماری کا نیا نیا حملہ ہوا تھا اس لیے میرے دل میں اس سوال سے تھوڑی سی گھبراہٹ پیدا ہوئی اور میں نے سوچا کہ یہ ایک نیا سوال ہے۔ اور آدمی بڑا پڑھا ہوا اور زیرک ہے معلوم نہیں میں اس کا جواب بھی دے سکوں گا یا نہیں ۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی میرے ساتھ یہ سنت ہے کہ اگر کسی سوال کا جواب مجھے نہ آتا ہو تو اِدھر سوال کرنے والا سوال کرتا ہے اور اُدھر بجلی کی طرح میرے دل میں اُس کا جواب آجاتا ہے ۔ مگر چونکہ میں اُس وقت بیمار تھا اس لیے میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی ! میں تو بیمار ہوں ۔ تو تو بیمار نہیں ۔ تو مجھے اِس سوال کا جواب سمجھا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فوراً مجھے جواب سمجھا دیا جس سے اُس کی زبان بند ہوگئی۔ میں نے کہا کہ آخر آپ کو یہی اعتراض ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹی سی چیز کے لیے بڑی چیز کو کیوں قربان کر دیا ؟ بے شک اُس کا ایمان بھی ایک قیمتی چیز تھی ۔ مگر بہر حال وہ ایک کمزور انسان کا یمان تھا کیونکہ اُس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی پاکیزگی پر شک کیا ۔ اُس شخص کے ایمان کو بچانے صلى الله ا کے لیے اپنی ایک بیوی کا پردہ اٹھا دینا ایک بڑی چیز کو چھوٹی چیز کے لیے قربان کر دینا ہے۔ کہنے تسلیم لگا ہاں میرے رے دل میں یہی شبہ پیدا ہوا ہے۔ میں نے کہا تو پھر اس کے معنے یہ ہیں کہ آپ کے نے کرتے ہیں کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز کے لیے قربان کر دینا چاہیے ۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے کو کر ۔ مد اگر اس مخصوص واقعہ کو دیکھا جائے تو اس میں اُس شخص کا ایمان بچانا بڑا کام تھا اور بیوی کے منہ پر دیکھا کا اور بیوی سے نقاب الٹ دینا چھوٹی بات تھی ۔ کہنے لگا یہ کس طرح ؟ میں نے کہا یہ تو تم جانتے ہو کہ پردہ کا حکم پہلی شریعتوں میں نہیں تھا۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ پردہ کا حکم رسول کریم ﷺ کی زندگی کے آخری سالوں میں نازل ہوا ہے۔ یعنی مدینہ میں ہجرت کرنے کے بعد پردہ کا حکم نازل ہوا ہے۔ تیرہ سال تک رسول کریم ﷺ مکہ میں رہے اور پردہ کا حکم نازل نہ ہوا۔ پھر مدینہ تشریف لائے تو صلى الله عروس الله وہاں بھی چار پا چار پانچ سال تک پردہ کا حکم نہیں اترا۔ گویا رسول کریم ﷺ کی دعویٰ نبوت کے بعد جو تئیس سالہ زندگی گزری ہے اُس میں سے سترہ اٹھارہ سال تک آپ کی بیویوں نے پردہ نہیں کیا۔ اور جب پردہ کا حکم مدینہ آنے کے بھی چار پانچ سال بعد نازل ہوا ہے تو تمہیں یہ ماننا پڑے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ہر بیوی کو ہر صحابی نے دیکھا ہوا تھا۔ اب بتاؤ کہ جس بیوی کو وہ سو دفعہ پہلے دیکھ چکا تھا اگر ایک موقع پر اس کا ایمان بچانے کے لیے آپ نے اپنی اُس بیوی کا نقاب اٹھا دیا تو