خطبات محمود (جلد 36) — Page 119
خطبات محمود جلد نمبر 36 119 1955ء نہ ہو تو پیاس نہیں بجھتی ۔ اور اگر پانی موجود تو ہو لیکن پیا نہ جائے تب بھی پیاس نہیں بجھتی۔ پیاس تبھی مجھتی ہے جب پانی بھی موجود ہو اور پیا بھی جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان ایسے وقت میں داخل ہوتا ہے جبکہ اُسے کچھ پتا نہیں ہوتا کہ دنیا کیا ہے اور اس دنیا میں اُس کے کیا فرائض ہیں ۔ صرف مذہب ہی اُسے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنا اور اُس سے دعائیں کرنا ہی اصل چیز ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کی ہستی کو تسلیم نہ کیا جائے تو یہ دنیا ایک معمہ بن کر رہ جائے ۔ اسی لئے فلاسفر ہمیشہ بخشیں کرتے رہتے ہیں کہ انسان کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے اور اس کا دوسری چیزوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اور وہ اس معمہ کو حل نہیں کر سکے ۔ کیونکہ یہ معمہ خدا تعالیٰ کی راہ نمائی کے بغیر حل نہیں ہو سکتا ۔ در حقیقت بعض چیزوں کو ماننے کے لیے انسان کو کسی ایسی ہستی پر یقین کرنا پڑتا ہے جس کے سچا ہونے میں کوئی شبہ نہ ہو۔ ہم بعض باتوں پر محض اس لئے یقین کر لیتے ہیں کہ وہ کسی معتبر آدمی نے کہی ہوتی ہیں ۔ پس اگر ہم ایک معتبر انسان پر اعتبار کر لیتے ہیں تو خدا پر کیوں اعتبار نہیں کر سکتے ۔ جب یہ ساری چیزیں جمع ہو جائیں تو دنیا کا معمہ ، معمہ نہیں رہتا۔ بلکہ ایک ایسا ۔ - تسلسل نظر آتا ہے جس کی ہر کڑی واضح اور ہر عقدہ حل شدہ ہوتا ہے ۔“ 66 الفضل 2 مئی 1956ء)