خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 97

$1955 40 97 خطبات محمود جلد نمبر 36 پر بھی ضروری فرائض عائد ہوتے ہیں جو کثیر التعداد افراد پر عائد ہوا کرتے ہیں۔مرکز میں ہمارے پاس ہر روز کثرت کے ساتھ مہمان آتے رہتے ہیں جن کا کھانا اور رہائش کا انتظام جماعت کرتی ہے۔اس طرح دوسو سے زائد بیوگان اور یتیم بچے ہیں جن کا تمام خرج جماعت برداشت کرتی ہے۔اس وقت تم دنیا کے سب سے بڑے ملک امریکہ میں بھی یہ نہیں پاؤ گے کہ وہاں غرباء کو مفت تعلیم دی جاتی ہو جیسا کہ ہمارے ہاں دی جاتی ہے۔ابھی مجھے ربوہ سے اطلاع ملی ہے کہ امسال یونیورسٹی کے امتحانات کے نتائج صرف بائیس فیصدی نکلے۔لیکن ہمارے ربوہ کی لڑکیوں کے کالج (جامعہ نصرت کا نتیجہ تریسٹھ فیصدی رہا اور ان پاس ہونے والی طالبات میں سے اکثر وہ ہیں جن کی فیسیں ہر ماہ میں خود ادا کرتا تھا۔وہ کالج کی فیس مہیا نہیں کر سکتی تھیں۔لیکن ہم نے ان کے اخراجات کو برداشت کیا اور اس طرح عورتوں کی تعلیم کو ترقی دی۔اس سے پہلے قادیان ایک وقت میں عورتوں کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز تھا۔وہاں پر کل تعلیم کا تناسب باسٹھ فیصدی تھا۔لڑکوں کی تعلیم کا تناسب نوے فیصدی تھا اور عورتوں کی تعلیم کا تناسب سو فیصدی تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ کوئی قوم پردہ میں ترقی نہیں کر سکتی لیکن ہماری طرف دیکھو کہ ہماری بچیوں کو جوعورتیں پڑھاتی ہیں وہ بھی پردہ کی پابند ہیں۔خود میری اپنی بیوی کالج کی پرنسپل ہے۔وہ عربی میں ایم۔اے ہے اور وہ اس کام کا کچھ معاوضہ نہیں لیتی۔لیکن وہ خود بھی پردہ کرتی ہیں اور لڑکیاں بھی پردہ میں رہتی ہیں۔اگر ضرورت کے موقع پر کالج میں بعض مرد تعلیم کے لیے لگائے جاتے ہیں تو وہ بھی پردہ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھاتے ہیں اور لڑکیاں بھی پردہ میں ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود یو نیورسٹی کے بائیس فیصدی نتائج کے مقابلہ میں اس کا نتیجہ تریسٹھ فیصدی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کبھی عورتیں پختہ ارادہ اور عزم کرلیں گی وہ علم حاصل کر لیں گی اور دنیا کو دکھا دیں گی کہ پردہ میں رہ کر بھی ہر چیز حاصل کی جاسکتی ہے۔بعض بڑے بڑے کا لج ہیں جن کی گورنمنٹ مدد کرتی ہے اور جن میں امریکہ اور لندن وغیرہ سے آئے ہوئے پروفیسر پڑھاتے ہیں۔لیکن پھر بھی اُن کا نتیجہ صرف بائیس فیصدی ہے۔لیکن ہماری عورتوں کے نتائج تریسٹھ فیصدی ہیں۔اور یہ چیز صرف عزم اور عملی عروج کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اگر تم بھی مشکلات پر عبور حاصل کرنے کے لیے پختہ عزم کر لوتو تم لوگوں کو یہ بتا سکتے ہو کہ اسلامی قوانین ترقی حاصل کرنے میں روک نہیں ہیں۔تم میں بعض ایسے نوجوان ہیں جن کے چہرے