خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 91

$1955 91 خطبات محمود جلد نمبر 36 اور محمد رسول اللہ ﷺ کی جان کو ظاہری عقل کے ماتحت خطرہ میں ڈلوا دیا کہ اتنی لمبی لڑائی کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ غالب ہوئے ، فاتح ہوئے۔دشمن کی قوم کو شکست پہنچی ، گردنیں نیچی ہوگئیں اور رسول اللہ کے سامنے وہ لوگ ذلیل ہو گئے اور دلوں میں بغض پیدا ہوا کہ اب اگر یہ قابو آجا ئیں تو پھر تو نہیں چھوڑیں گے۔اور آگئے قابو۔یہ بھی نہیں کہ قابو نہ آئے تو پھر بھی کہتے کہ کی اتفاق حسنہ ایسا ہوا کہ قابو نہیں آئے۔مگر باوجود قابو آنے کے پھر مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔چھوڑ دیا اور لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے حکم کو جائز قرار دے دیا اور ہم نے جو مالکیت کے لحاظ سے معاف اور رحم کیا تھا اس کے جو بداثرات پیدا ہو سکتے تھے ان کا بھی ہم نے ازالہ کر دیا۔یہی اگر دنیوی حکومتیں کریں کہ بعض دفعہ مثلاً نادر شاہ جب دتی میں آیا تو اُس نے قتل عام کا حکم دے دیا۔ہندوستان کی حکومت اگر انگریز کے ہاتھ سے نکلی تو سب سے بڑی ذمہ داری جنرل ڈائر پر تھی۔اگر جنرل ڈائر (DYER) کا جلیا نوالہ باغ کا واقعہ نہ ہوتا تو ہندوستان سے شاید اتنی جلدی انگریز نہ نکل سکتے تھے۔اس نے تمام ہندوستان کے دلوں میں انگریز کے خلاف اتنا بغض بھر دیا کہ اس کی کوئی حد نہیں تھی۔اگر جنرل ڈائر بھی مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی حیثیت میں ہوتا۔لیکن وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِین کی حیثیت میں نہیں تھا۔وہ تو ماتحت تھا اور سمجھتا تھا کہ اگر میں نے ان کے ساتھ کوئی عفو کیا اور کل کو انہوں نے کوئی شرارت کی تو گورنمنٹ مجھے پکڑے گی۔اگر مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی حیثیت میں ہوتا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ سے سلوک کروایا تھا وہ سلوک کرتا۔اور اس سختی کے وقت میں بھی ہندوستانیوں سے اتنی ذلت کا سلوک نہ کرتا تو ان کے دل میں وہ بغض پیدا نہ ہوتا جس کے نتیجہ میں ہندوستان انگریز کے ہاتھوں سے بھی نکل گیا۔تو مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ میں بتایا کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے۔جس سے اَلْحَمْدُ حاصل ہوتی ہے۔اگر کوئی حکومت مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ بن کر رہے۔جس طرح خدا تعالیٰ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ بن کر حکومت کرتا ہے تو پھر عوام الناس میں اور پبلک میں اور اردگرد کے لوگوں میں بغض کبھی نہیں پیدا ہوسکتا۔بلکہ تعریف ہی ہوتی ہے کہ بڑے اچھے ہیں۔تو فرماتا ہے کہ الْحَمْدُ حاصل ہوتی ہے مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔جو مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ