خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 92

خطبات محمود جلد نمبر 36 92 $1955 نہیں اسے الْحَمْدُ نہیں ملتی۔جو رَبِّ الْعَلَمِینَ نہیں اسے اَلْحَمْدُ نہیں ملتی۔جو رحمان نہیں اُسے الْحَمدُ نہیں ملتی۔جو رحیم نہیں اسے اَلحَمدُ نہیں ملتی۔اَلْحَمدُ تبھی ملتی ہے جبکہ وہ کی رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کی صفت کا مظہر ہو۔رحمانیت کا مظہر ہو ، رحیمیت کا مظہر ہو اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا مظہر ہو۔پھر آگے کچھ اور مضمون ہیں خود اس کے اندر بھی اور پہلو ہیں۔مگر آج جانے کی وجہ سے طبیعت میں کمزوری اور پریشانی ہے۔میں اگر زیادہ کام کی طرف متوجہ رہوں تو طبیعت پریشان ہو جاتی ہے اس لیے اس کو چھوڑتا ہوں۔“ 66 1: الفاتحة : 4 (الفضل 30 جون 1955ء) 2 السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 89 مطبوعه مصر 1935ء 3 السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 128,127 مطبوعہ مصر 1935ء 4 جنرل ڈائر : REGINALD EDWARD HARRY DYER) برطانوی جرنیل جس نے امرتسر میں قتل عام کرایا۔پیدائش 9 اکتوبر 1864 ء مری ( پاکستان ) انتقال 23 جولائی 1927ء برسٹل (انگلینڈ) اس کا باپ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار تھا۔ڈائر نے 1885ء میں WEST SURREY کی رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔یہاں سے اسے انڈین آرمی میں بھیج دیا گیا۔اس نے 87-1886 کی برما مہم میں حصہ لیا۔1902-1901ء میں وزیرستان کے محاصرے اور مہم میں اہم کردار ادا کیا۔پہلی جنگ عظیم میں اسے مشرقی فارس کی کمان دی گئی۔13 اپریل 1919 ء کو جب جلیا نوالہ باغ امرتسر کا سانحہ پیش آیا تو ڈائر جالندھر کا بریگیڈ کمانڈر تھا۔13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے شہری (مسلم، ہندو، سکھ ) اپنے راہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیلئے جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے لوگ تقاریر سن رہے تھے کہ جنرل ڈائر 50 انگریز اور 100 ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ باغ میں داخل ہوا اور گولی چلانے کا حکم دیا جس سے 379 افراد ہلاک اور 1200 زخمی ہوئے۔اسے بعد ازاں جنرل بنا کر برطانیہ بھیجا گیا اس قتل عام کا سبب رولٹ ایکٹ کے خلاف بغاوت تھی۔(عالمی شخصیات۔انسائیکلو پیڈیا صفحہ 658-659 مطبوعہ لاہور 2014ء)