خطبات محمود (جلد 36) — Page 28
$1955 28 خطبات محمود جلد نمبر 36 غرض ابھی آدھی دنیا ایسی ہے جس میں ڈاکٹر نہیں۔امریکہ کی طرف دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی ایسے خواب دیکھنے شروع کر دیئے ہیں کہ طبیبوں پر پابندی لگادی جائے اور سوائے با قاعدہ سند یافتہ ڈاکٹروں کے کوئی علاج نہ کر سکے۔لیکن حالت یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بعض حصوں میں ابھی دس دس بیس میں میل تک ڈاکٹر نہیں ملتا۔اگر ہمارے ملک میں اس قسم کا قانون پاس کر دیا گیا تو ہم امریکہ کی نظر میں مہذب تو بن جائیں گے لیکن ہمارے افراد بیماری اور مصیبت کا شکار ہو جائیں گے اور ایسے علاقوں کے رہنے والے لوگ علاج کے بغیر ہی مر جائیں گے۔پاکستان تو ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک کے مقابلہ میں ترقی یافتہ ہے۔وہ ممالک اس سے بہت پیچھے ہیں اور ان میں ڈاکٹروں کا نام ونشان بھی نہیں۔اگر مبلغین کو طب پڑھائی جائے تو اس قسم کے علاقوں میں وہ بہت مفید کام کر سکتے ہیں۔بہر حال اگر طلباء کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو ایسے طریق موجود ہیں جن کے ذریعہ انہیں مفید وجود بنایا جاسکتا ہے۔بشرطیکہ عملہ ایسا کرنے کے لئے تیار ہو۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس قسم کے اخراجات کم نہیں کئے جاسکتے۔یہ بہر حال ہر سال بڑھتے جائیں گے۔میں نے دونوں انجمنوں صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کو ہدایت دی ہے کہ وہ مبلغین کی تعداد زیادہ نہ کریں بلکہ جو پہلے مبلغ ہیں ان کو زیادہ سہولتیں پہنچائیں۔انہیں اخراجات زیادہ دیں تا وہ اپنے علاقہ میں دورے کر سکیں اور تبلیغ کے کام کو منظم کر سکیں۔یہ نہ ہو کہ ایک مبلغ کو کسی علاقے میں بھیج دیا گیا ہولیکن اس کے پاس اتنے اخراجات بھی نہ ہوں کہ وہ دس میل کا سفر کر سکے۔اگر ایک آدمی کو کی بھی پورا سامان بہم پہنچایا جائے۔تو وہ دس مبلغوں جتنا کام کر سکتا ہے۔پھر مبلغین کی ٹریننگ کی طرف بھی توجہ ہونی چاہیے۔اس وقت یہ حالت ہے کہ نئے مبلغین کو کچھ حوالے سکھا کر کسی علاقہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔حالانکہ صرف حوالوں سے کامیابی نہیں ہو سکتی تبلیغ میں نفسیات سے واقفیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم میایی کے پاس جب مکہ کا سفیر آیا تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنی سب قربانیاں باہر نکال کر صفوں میں کھڑی کر دوح آپ انسانی کیریکٹر کو پہنچانتے تھے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔آپ نے سمجھا اسے زیادہ تبلیغ کی ضرورت نہیں۔یہ پرانی طرز کا مذہبی آدمی ہے۔اس کے نزدیک جو شخص