خطبات محمود (جلد 36) — Page 286
$1955 286 خطبات محمود جلد نمبر 36 اخبار پر انسان کو اطلاع ہوتی ہے اُن کو شائع کرنے کا اصل حکم شرعی نبی کو ہوتا ہے اور ظلمی طور پر خالی اور بروزی نبی کو ہوتا ہے۔شرعی نبی کو اشاعت کا حکم اس لیے ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی وحی کو چھپا دے تو لوگوں کو شریعت سے کیسے اطلاع ہو۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شرعی نبی بھی بعض اوقات یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ لوگوں کی طبائع پر یہ اثر ہو کہ میں اُن پر حکومت جتانا چاہتا ہوں اور اس مقصد کے لیے میں اپنے الہامات کو شائع کر دیتا ہوں۔اس لیے وہ بھی بعض اوقات چاہتا ہے کہ اپنے الہامات کو چھپا دے۔جیسا کہ قرآن کریم کی بعض آیات سے اس کا استدلال ہوتا ہے رسول کریم ﷺ نے بھی اپنے الہامات اور رؤیا و کشوف کی اشاعت میں حیا محسوس کی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حالت کو دیکھ کر فرمایا بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ 1 جو کچھ تجھ پر نازل ہوتا ہے اُس کو لوگوں تک پہنچانا تیرا فرض ہے کیونکہ اس سے تیری بعثت کا مقصد پورا ہوتا ہے۔اسی قسم کے نبی کے متعلق اللہ تعالی سی قرآن کریم میں فرماتا ہے سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى 2 ہم تجھ پر ایسی وحی نازل کریں گے کہ تو اسے بھولے گا نہیں۔کیونکہ اگر شریعت والا نبی اپنی وحی بھول جائے تو اس کی امت اُن احکامات اور ہدایات سے محروم رہے گی جو اُس وحی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے تھے۔لیکن غیر تشریعی نبی کے لیے یہ حکم نہیں ہوتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو دیکھ لو۔کئی جگہ لکھا ہے کہ پھر الہام کا ایک ٹکڑا مجھے بھول گیا یا الہام ہوا تھا مگر اُس کے الفاظ میں بھول گیا ہوں۔ہاں اُس کا مفہوم یہ تھا۔اگر آپ تشریعی نبی ہوتے تو آپ کا بھولنا کتنی تباہی کا موجب ہوتا۔پس تشریعی نبی کو وحی بھولا نہیں کرتی۔ہاں غیر تشریعی نبی بعض اوقات اپنے الہامات یا اس کے کسی حصہ کو بھول جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ غیر تشریعی انبیاء کی وحی اور الہامات میں بھی بعض معارف ہوتے ہیں۔اور بعض الہامات ایسے ہوتے ہیں جو پہلی شریعت کے کسی حصہ کی تشریح اور تفصیل ہوتے ہیں۔اس لیے اس قسم کے الہامات غیر تشریعی انبیاء کو بھی نہیں بھولتے۔کیونکہ یہ الہامات بمنزلہ وحی اوّل ہوتے ہیں۔اور جو الہام اور وحی بمنزلہ وحی اول ہو وہ بھی نہیں بھول سکتی۔کیونکہ اُس کے بھولنے سے بھی وہی نقصان ہو سکتا ہے جو سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى