خطبات محمود (جلد 36) — Page 275
خطبات محمود جلد نمبر 36 حضرت حسان بن ثابت نے کہا۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَا ظِرِى 275 فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ 4 $1955 یعنی تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیرے مرنے سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے۔اب جو چاہے مرے مجھے تو صرف تیری ہی موت کا ڈر تھا۔لیکن آپ کے بعد حضرت ابو بکر کھڑے ہو گئے اور ان کی ایسی شان ظاہر ہوئی کہ خیال کیا جانے لگا کہ آپ جیسا وجو د اور پیدا نہیں ہوگا۔لیکن جب آپ فوت ہوئے تو حضرت عمرؓ کھڑے ہو گئے۔حضرت عمر فوت ہوئے تو حضرت عثمان کھڑے ہو گئے۔حضرت عثمان فوت ہوئے تو حضرت علی کھڑے ہو گئے۔جب حضرت علی شہید ہو گئے تو چاہے آپ کے درجہ کے برابر نہ سہی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سنبھالنے والا معاویہؓ کھڑا کر دیا۔پھر کچھ عرصہ بعد اسی خاندان سے حضرت عمر بن عبد العزیز جیسا وجود کھڑا ہو گیا جنہیں عمر ثانی بھی کہا جاتا ہے۔پھر یہ سلسلہ آگے چلتا چلا گیا۔اسی طرح روحانی طور پر بھی یہ سلسلہ چلا اور جب وہ وقت آگیا کہ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب مسلمانوں کا کوئی سہارا نہیں تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج دیا۔اب ہماری جماعت بھی لاکھوں کی تعداد میں ہے اور اس میں سینکڑوں ایسے طالب علم ہیں جو کالجوں میں پڑھتے ہیں۔لیکن کتنے ہیں جو پہلے کام کرنے والوں کی جگہ لینے کے لیے آگے آئے ہیں؟ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ چین میں ایک عیسائی مشنری عورت کو وحشیوں نے ماردیا اور انہوں نے اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔انگریزوں نے دنیا میں یہ مشہور کر دیا کہ چینی اُس کا گوشت کھا گئے ہیں۔معلوم نہیں یہ سچ تھا یا جھوٹ۔چینی لوگ تو مر دار خوار نہیں ہوتے ہاں پرانے زمانہ میں نجی کے لوگ انسان کو کھا لیتے تھے۔مگر انگریزوں نے شاید اپنی کسی مصلحت کے ماتحت یہ مشہور کر دیا کہ چینی لوگ اُس عورت کو کھا گئے ہیں۔جو نبی یہ خبر اخباروں میں شائع ہوئی شام تک پانچ ہزار عورتوں کی طرف سے اس مضمون کی تاریں آگئیں کہ ہمیں مرنے والی عورت کی جگہ بھیج دیا جائے۔یہ زندہ قوم کی علامت ہے کہ اُس کا ایک فرد مرتا ہے تو اُس کی جگہ لینے کے لیے کئی اور آدمی آگے آجاتے ہیں۔