خطبات محمود (جلد 36) — Page 258
$1955 258 خطبات محمود جلد نمبر 36 فائدہ بھی ہوگا کہ ربوہ والے آسانی کے ساتھ سڑکوں کے کناروں پر درخت لگا سکیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سٹرکوں پر لگائے ہوئے درخت گورنمنٹ کی ملکیت ہوتے ہیں۔لیکن یہ کس قدر حماقت کی بات ہے کہ انسان یہ کہے کہ ہماری صحت بے شک اچھی نہ ہولیکن سڑکوں کے کناروں پر لگے ہوئے درخت گورنمنٹ کو نہ ملیں۔حالانکہ ہمارے مد نظر یہ ہونا چاہیے کہ گورنمنٹ کو اگر سو درخت بھی ملتے ہیں تو بے شک مل جائیں۔اس سے ہماری حکومت کو بھی فائدہ پہنچے گا اور ہماری صحت بھی اچھی ہو جائے گی۔اسی طرح اگر ٹیوب ویل لگ جائے تو سڑکوں پر چھڑ کا ؤ کا بھی اچھا انتظام ہو جائے گا۔اس وقت حالت یہ ہے کہ طوفان تو اور جگہوں پر آئے ہیں لیکن بیمار ربوہ والے ہوئے ہیں۔جس کسی سے پوچھو وہ یہی کہتا ہے کہ ہمارے گھر میں فلاں کو تیز بخار ہے اور پھر یہ بخار مہینہ مہینہ تک چلا جاتا ہے۔اسی طرح نزلہ اور زکام بھی وبائی رنگ میں پھیلا ہوا ہے۔اس کی وجہ محض گرد و غبار ہے جو یہاں ہر وقت اُڑتا رہتا ہے۔اگر ٹیوب ویل لگ جائے تو بڑی آسانی کے ساتھ سٹرکوں پر چھڑ کا ؤ ہو سکے گا اور اس طرح گردوغبار ایک حد تک دب جائے گا۔پھر ہمارا کالج ہے وہ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے۔مگر مرزا ناصر احمد نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے کالج کی سڑکوں کو پختہ کرنے کے لیے رولر منگوا لئے ہیں۔پانی ڈال کر انہیں پھیر دینے سے سٹرکیں پختہ ہو جاتی ہیں۔میونسپل کمیٹی ربوہ بھی اگر ہمت کرے تو وہ اُس رولر سے تکنا یا چار گنا بوجھل رولر منگوا سکتی ہے۔کالج کا رولر اگر چارمن کا ہے تو میونسپل کمیٹی 17, 18 من کا منگوالے۔اگر اسے دو بیل آسانی کے ساتھ نہ کھینچ سکیں تو چار بیل لگ جائیں۔اول تو دوا چھے بیل چار بیلوں کا کام کر سکتے ہیں اور پھر رولر چونکہ گول ہوتا ہے اس لیے اسے آسانی کے ساتھ کھینچا جا سکتا ہے۔لیکن اگر دو بیلوں سے کام نہ چلے تو چار بیل بھی رکھے جاسکتے ہیں۔بہر حال سڑکوں پر پانی ڈال کر رولر پھیر دیا جائے تو وہ پکی ہو جائیں گی اور گرد و غبار نہیں اُڑے گا۔اس وقت جو گرد و غبار اڑتان ہے اس کی وجہ سے کتنا خرچ آتا ہے۔ہر شخص جو اس گرد وغبار کی وجہ سے بیمار ہوتا ہے وہ اپنے علاج پر کچھ نہ کچھ ضرور خرچ کرتا ہے۔پھر اگر کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے کام کی رفتار میں بھی کمی آتی ہے۔یورپ والے تو اس بات کا بھی حساب رکھتے ہیں کہ فلاں شخص کے بیمار ہونے