خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 189

$1955 189 خطبات محمود جلد نمبر 36 چندہ بڑھانے کی کوشش کریں۔یہی غلام احمد بشیر ( مبلغ ہالینڈ ) جس کی میں نے ابھی تعریف کی ہے اس کے متعلق چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے بتایا کہ وہ نو مسلموں سے چندہ نہیں لیتا۔چودھری صاحب نے کہا کہ میں نے اُس سے کہا ہے کہ میں تو ان نو مسلموں کو اُس وقت احمدی سمجھوں گا جب وہ با قاعدہ چندہ دیں گے۔لیکن وہ ہر دفعہ یہ عذر کر دیتا ہے کہ یہ لوگ مالی لحاظ سے کمزور ہیں اور چندہ دینے کے قابل نہیں۔میرے نزدیک چودھری صاحب کی بات بالکل درست ہے۔ہمارے مبلغین کو نو مسلموں سے چندہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔میں نے جرمنوں کو دیکھا ہے کہ وہ چندے دیتے ہیں۔ایک شخص میری آمد کے متعلق خبر پا کر دوسومیل سے چل کر مجھے ملنے آیا۔چودھری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی نے مجھے بتایا کہ وہ جب سے احمدی ہوا ہے اڑھائی پونڈ ماہوار با قاعده چندہ دیتا ہے۔پس اگر ہمارے مبلغین کو مسلموں کو چندہ دینے کی عادت ڈالیں گے تو انہیں عادت پڑ جائے گی۔چاہے ابتدا میں وہ ایک ایک آنہ ہی چندہ کیوں نہ دیں۔اگر وہ ایک ایک آنہ بھی چندہ دینا شروع کردیں گے تو آہستہ آہستہ انہیں اس کی عادت پڑ جائے گی۔اور پھر زیادہ مقدار میں چندہ دینا انہیں دو بھر معلوم نہیں ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات اور کتابیں نکال کر دیکھ لو۔تمہیں اُن میں یہ الفاظ دکھائی دیں گے کہ فلاں دوست بڑے مخلص ہیں۔انہوں نے ایک آنہ یا دو آنہ ماہوار چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔لیکن پھر وہی لوگ بڑی بڑی مقدار میں چندے دینے لگ گئے تھے۔ہمارے مبلغین کو بھی چاہیے کہ وہ بھی نو مسلموں سے چندہ لینے کی کوشش کریں۔مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ اور دمشق والے احمدیوں کی حالت نسبتاً اچھی ہے۔دمشق کی جماعت بڑے اخلاص اور ہمت سے کام کر رہی ہے۔پھر جماعتوں کو چاہیے کہ وہ نو جوانوں کو یہاں بھجوائیں جو یہاں رہ کر تعلیم حاصل کریں اور مرکزی اداروں میں کام کریں۔دیکھ لو! بیماری سے پہلے مجھ میں کس قدر ہمت ہوا کرتی تھی۔میں اکیلا دس آدمیوں سے بھی زیادہ کام کر سکتا تھا۔لیکن اب ایک آدمی کے چوتھائی کام کے برابر بھی نہیں کر سکتا۔اسی طرح یہ ناظر بھی انسان ہی ہیں۔ان کو بھی بیماری لگ سکتی ہے اور کام کے ناقابل ہو سکتے ہیں۔پس باہر سے نوجوانوں کو یہاں آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔بلکہ بہتر ہوگا کہ مختلف ممالک کے لوگ یہاں آئیں اور انجمن کا کام سنبھالیں تا ہماری مرکزی انجمن انٹر نیشنل انجمن بن جائے۔