خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 146

خطبات محمود جلد نمبر 36 146 $1955 ہم بچے تھے تو ہم کتابوں میں ایک کہانی پڑھا کرتے تھے کہ جب بادل آتا ہے تو قطرے آپس میں جھگڑتے ہیں۔ایک کہتا ہے کہ میں زمین پر گر کر کیوں جان دوں؟ دوسرا کہتا ہے میں کیوں جان دوں ؟ آخر ایک قطرہ آگے بڑھتا اور زمین پر گرتا ہے، اس کے بعد دوسرا قطرہ گرتا ہے، پھر تیسرا گرتا ہے، پھر چوتھا گرتا ہے اور پھر موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔یہی حال دین کی قربانی کا ہے۔پہلے قربانی کرنے والے جب قربانی کرتے ہیں تو اُن کو دیکھ کر دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ تباہ ہوجائیں گے مگر ان کی تو ہم سے بھی زیادہ عزت ہوئی اور ہم سے بھی زیادہ انہوں نے کامیابی حاصل کی۔آؤ ہم بھی انہی کے پیچھے چلیں۔چنانچہ وہ بھی اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ زمانہ آجاتا ہے کہ انسان کہتا ہے میں کس کو رکھوں اور کس کو رد کروں ،کس کو بچوں اور کس کو نہ بچوں۔اُس زمانے کے آنے سے پہلے پہلے جو لوگ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لیے پیش کریں گے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوں گے اور ی اُس کی برکتوں سے اتنا حصہ پائیں گے کہ بعد میں آنے والے اُن برکات کا عشر عشیر بھی نہیں لے سکیں گے۔کیونکہ الْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّم - فضیلت اُنہی کو ملتی ہے جو نیکی اور قربانی کی راہوں میں سبقت اختیار کرتے ہیں۔مجھے شکوہ ہے کہ کراچی والے اب تک دو گنے کیوں نہیں ہو گئے۔میں کئی سال سے انہیں توجہ دلا رہا ہوں مگر ابھی تک وہ دو گنے نہیں ہوئے۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ انہیں دو گنا ہونے کی نصیحت کرتے ہوئے بھی مجھے شرم آتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انہیں موجودہ تعداد سے دو سو گنے زیادہ ہونا چاہیے۔اگر وہ سچے دل سے کوشش کریں اور اپنی جد و جہد کو تیز کر دیں تو وہ دیکھیں گے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی مدد اور اُس کی نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے اور انہیں ان کے مقصد میں کامیاب کرتی ہے۔پس اپنے اندر دین کی خدمت کا احساس پیدا کرو اور سمجھ لو کہ دنیا کی کی اصلاح تمہارے ساتھ وابستہ ہے۔تمہیں اُس وقت تک چین اور آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک دنیا کو تم ہدایت کی طرف نہ لے آؤ۔اگر تم دنیا کی ہدایت کے لیے بے چین رہو گے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو بھی اُس وقت تک چین نہیں آئے گا جب تک