خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 87

$1954 87 خطبات محمود انتظام مسجد میں نہیں ہوا۔جب میں یہاں پہنچا تو مجھے پیغام ملا کہ جماعت کے بعض کارکن آئے ہیں اور وہ پوچھتے ہیں کہ جمعہ کی نماز کہاں ہونی چاہیے۔میں نے جواب میں کہا کہ جمعہ کی اصل جگہ تو مسجد ہی ہے لیکن چونکہ میری آمد کی وجہ سے لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہوں گے اور مسجد چھوٹی ہے اس لیے اگر مسجد میں جمعہ کی نماز مناسب نہیں تو نئی جگہ پر جو خریدی گئی ہے جمعہ کی نماز پڑھ لی جائے۔لیکن اگر وہاں بھی جمعہ کی نماز کا انتظام نہ ہو سکے تو جہاں آپ لوگ چاہیں جمعہ کی نماز پڑھ لیں۔اب اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ پیغامبر نے پیغام پہنچانے میں غلطی کی یا جماعت کے اُس کا رکن نے اس کی بات کو غلط سمجھا۔بہر حال جواب یہ دیا گیا کہ چونکہ مسجد چھوٹی ہے اور نئی جگہ پر ابھی کھیت ہیں اور ان میں فصل کھڑی ہے کھیتی والے وہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے اس لیے جمعہ کی نماز یہیں یعنی رتن باغ میں ہو گی۔اب پتا لگا ہے ہے کہ مقامی آدمی آپس میں یہ بحث کر رہے تھے کہ نئی جگہ پر نماز کے لیے مناسب انتظام کر دیا گیا تھا اور یہ بات غلط ہے کہ وہاں کھیتوں کی وجہ سے نماز جمعہ کا انتظام کرنا مشکل ہے۔پس یہ غلط فہمی تھی جس کی بناء پر جمعہ کا انتظام رتن باغ میں کیا گیا۔بہر حال اب جماعت کی یہی کوشش ہونی چاہیے کہ اگر زیادہ تعداد کی وجہ سے مسجد میں نماز پڑھنا مشکل ہو تو نئی جگہ پر نماز پڑھی جائے۔بہر حال جہاں تک نمازوں کا تعلق ہے نمازیں مسجد میں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔جب دوست زیادہ تعداد میں ہوں تو نمازیں نئی جگہ پر پڑھ لی جایا کریں تا کہ لوگوں کو وہاں جانے کی عادت ہو جائے اور تا وہاں دعائیں ہوتی رہیں کہ خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو اور جب خدا تعالیٰ کا فضل ہو جاتا ہے تو سب مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔اور اگر کوئی مجبوری ہو تو کسی اور جگہ نماز پڑھ لی جائے۔بہر حال جہاں تک ہو سکے چھوٹے اجتماعوں میں مسجد کو مقدم رکھا جائے اور بڑے اجتماعوں میں اُس جگہ کو جو نئی خریدی ہے۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ہماری جماعت قسم قسم کے خطرات میں سے گزر رہی ہے۔بعض خطرات ہمیں نظر آتے ہیں اور بعض خطرات ہمیں نظر نہیں آتے۔بعض رپورٹیں ایسی آ رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہوں پر لوگ پھر فساد پیدا کرنے اور فتنہ کی آگ بھڑکانے کی کوشش