خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 405

$1954 405 خطبات محمود ہوتی ہے۔دوسرے لوگ یہاں آ کر دیکھتے ہیں تو اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔پھر یا تو وہ احمدی ہو کر جاتے ہیں یا احمدی نہیں ہوتے تو کم از کم احمدیوں کی طرف سے لڑنے والے ضرور بن جاتے ہیں۔اور جہاں بھی احمدیوں کے متعلق خلاف واقعہ باتوں کا پروپیگینڈا کیا جائے وہاں وہ اصل حقیقت کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے خود اپنی آنکھوں سے ان لوگوں کو دیکھا ہے اور ہم خود ان کے مرکز میں بھی گئے ہیں۔تم جو کچھ کہہ رہے ہو یہ بالکل جھوٹ اور خلاف واقعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مولوی ،لوگوں کو قادیان جانے سے روکتے تھے اور کہتے تھے وہاں حلوا کھلا کر لوگوں پر جادو کر دیا جاتا ہے اور وہ احمدی ہو جاتے ہیں۔ایک دوست نے سنایا کہ ایک مولوی صاحب ایک جگہ تقریر کر رہے تھے کہ ایک مولوی اور اُن کا ایک معتقد قادیان گئے۔جب وہ قادیان پہنچے تو انہیں ایک جگہ ٹھہرایا گیا۔صبح ہوتے ہی اُن کے پاس حلوا لایا گیا۔یہ حلوا جادو والا تھا۔مولوی صاحب نے تو اُس کے کھانے سے انکار کر دیا لیکن اُن کے ساتھی نے حلوا کھا لیا۔اس کے بعد ایک آدمی آیا اور اُس نے کہا آپ دونوں کو مرزا صاحب بلا رہے ہیں۔چنانچہ وہ وہاں گئے۔وہاں مرزا صاحب اور مولوی نورالدین صاحب ان کا انتظار کر رہے تھے اور ایک فٹن 5 سواری کے لیے تیار تھی (حالانکہ قادیان میں آخری زمانہ تک بھی فٹن نہیں آئی۔اس میں وہ مولوی صاحب اور اُن کے ساتھی کو لے کر بیٹھ گئے۔مرزا صاحب نے بتانا شروع کیا کہ میں نبی ہوں اور اسلام کی خدمت کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔مولوی صاحب تو اَسْتَغْفِرُ اللهَ پڑھتے رہے اور ان کے ساتھی نے کہا آپ جو کچھ کہتے ہیں درست ہے۔کیونکہ اُس نے جادو والا حلوا کھا لیا تھا۔پھر مرزا صاحب نے کہا لوگوں کو غلطی لگی ہے۔اصل میں میں خاتم النبیین ہوں۔اس پر مولوی صاحب تو اَسْتَغْفِرُ اللہ پڑھتے رہے لیکن اس کے ساتھی نے کہا آپ بالکل درست فرماتے ہیں۔اس کے بعد مرزا صاحب نے کہا اصل حقیقت یہ ہے کہ میں خدا ہوں۔مولوی صاحب کا ساتھی کہنے لگا بالکل ٹھیک ہے۔میں بھی مانتا ہوں کہ آپ خدا ہیں۔لیکن مولوی صاحب کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا لا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ - مرزا صاحب۔