خطبات محمود (جلد 35) — Page 404
$1954 404 خطبات محمود لیکن افسوس ہے کہ جماعت نے اس طرف توجہ نہیں کی۔اگر دوست اپنے غیر احمدی رشتہ داروں اور دوستوں کو اپنے ساتھ لاتے رہیں تو بہت سے فتنے جواب پیدا ہو رہے ہیں دور ہو جائیں۔میں نے بارہا دیکھا ہے کہ ایک شخص کا باپ، بیوی یا بھائی ہیں ہیں سال تک احمدی نہیں ہوتا تی لیکن یہاں لاؤ تو بعض دفعہ ایک ہی دن میں احمدی ہو جاتا ہے۔باہر جا کر تم اُسے لاکھ دلیلیں دو وہ نہیں مانے گا۔مولوی اُٹھ کر کہہ دے گا کہ یہ منافق ہیں کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔اب وہ شخص جس مولوی کے پیچھے سالہا سال تک نماز پڑھتا رہا ہے اُسے وہ جھوٹا کیوں کہے گا۔ނ وہ یہی کہے گا کہ احمدی جھوٹ بولتے ہیں۔لیکن جب وہ یہاں آتا ہے تو اپنی آنکھوں۔دیکھتا ہے کہ یہاں ذکر الہی ہو رہا ہے، نمازیں باقاعدگی سے ادا کی جاتی ہیں، قرآن کریم پڑھا جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ مولوی کہتے ہیں وہ جھوٹ ہے۔اسی طرح بسا اوقات ایک کی ہی دن میں اُس کا دل کھل جاتا ہے اور وہ احمدیت کو قبول کر لیتا ہے۔یہاں آنے والوں سے قریباً پچاس ساٹھ فیصدی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ باہر تو آپ لوگوں کے متعلق عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں لیکن یہاں دیکھا تو بالکل نقشہ ہی اور ہے۔مثلاً باہر ہمارے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ احمدی خدا اور اُس کے رسول کو نہیں مانتے اور یہ جہلاء کا ہی خیال نہیں بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کا بھی ہمارے متعلق یہی ہے خیال ہے۔پچھلے دنوں بنگال سے ایک وفد یہاں آیا تو اس کے ایک ممبر نے جو وہاں لیگ کے کونسلر بھی ہیں اور اچھے تعلیم یافتہ ہیں مجھ سے نہایت شرما شرما کر ذکر کیا کہ ہم تو سنا کرتے تھے کہ آپ لوگوں نے قرآن کریم کے تمیں سپاروں کی بجائے تیرہ پارے کر دیئے ہیں۔وہ لوگ یہ باتیں اپنے علماء سے سنتے ہیں اور اُن پر یقین کر لیتے ہیں لیکن جب یہاں آتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہمارا قرآن تمیں پاروں کا ہی ہے تیرہ پاروں کا نہیں اور جو قرآن ہمارے گھروں میں پڑھا جاتا ہے وہ اکثر انہیں لوگوں کا شائع کردہ ہوتا ہے۔پھر نمازیں بھی ہم اسلامی طریق کے مطابق ادا کرتے ہیں اور اس میں ہمارا دوسرے مسلمانوں سے کوئی اختلاف نہیں۔میں مانتا ہوں کہ یہاں بھی بعض لوگ نمازوں کی ادائیگی میں کوتا ہی کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہماری مساجد میں دوسرے مسلمانوں کی نسبت زیادہ رونق