خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 394

$1954 394 خطبات محمود باقی کچھ مکانوں کی یہ حالت ہے کہ مکانات کی کمی کی وجہ سے اُن کے بعض حصے کرایہ پر ہے۔ہے۔شاید چڑھے ہوئے ہیں اور مالکان مکانات کے پاس اپنے رہنے کے لیے بھی بہت کم گنجائش ہے اس لیے وہ آسانی کے ساتھ کوئی حصہ جلسہ کے مہمانوں کے لیے نہیں دے سکتے۔لیکن بہر حال یہ دقت جہاں اُن کے لیے ہے وہاں سلسلہ کے لیے اُن سے بھی زیادہ ہے۔اس لیے کہ سلسلہ کا یہ کام سال میں چند دن کے لیے ہوتا ہے۔دوست اپنی اپنی ضروریات کے لیے سال بھر میں مکانوں میں کچھ نہ کچھ زیادتی کر لیتے ہیں لیکن سلسلہ اپنے اس چند روزہ کام کے لیے عمارتیں نہیں بنا سکتا۔اگر سلسلہ اس چند روزہ کام کے لیے مستقل عمارتیں بنانا شروع کر دے تو جماعت کے اخراجات بہت بڑھ جائیں۔ربوہ میں آنے کے بعد ابتدائی چند سالوں میں مہمانوں کے لیے بیر کیں بنائی جاتی تھیں اور اُس پر ہر سال پندرہ بیس ہزار روپیہ خرچ ہو جاتا تھا۔پھر وہ بیر کیں آئندہ سال استعمال بھی نہیں کی جا سکتی تھیں کیونکہ کچی اینٹیں ضائع ہو جاتی تھیں۔اس سال بھی بعض بیر کیں موجود ہیں۔مثلاً زنانہ بیرکوں کا ایک حصہ باقی مردانہ بیرکوں کا بھی کوئی حصہ باقی ہو لیکن عمارتیں زیادہ بن جانے کی وجہ سے اب پہلے کی طرح بیر کیں نہیں بنائی جاتیں۔پس میں مقامی جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ کام کرنے والوں سے تعاون کریں اور آنے والے مہمانوں کے لیے اپنے مکانات پیش کریں ورنہ اگر جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کے رہنے کے لیے کوئی گنجائش نہ نکلی تو جلسہ کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہو جائے گا۔اگر جلسہ سالانہ پر آنے والوں کو رہنے کے لیے جگہ نہ ملی تو لازماً انہیں تکلیف ہو گی۔اسی طرح جو غیر احمدی مہمان اس موقع پر آ جاتے ہیں وہ اُن کی طعن و تشنیع کا موجب بنیں گے اور یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو حوصلہ شکن اور دل توڑنے والی ہیں۔پس ربوہ والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں یہ جلسہ ساری جماعت کا ہے وہاں وہ خاص طور پر اس موقع پر میزبان کی حیثیت رکھتے ہیں۔یوں تو ساری جماعت ہی میزبان ہے کیونکہ جلسہ سالانہ کا بوجھ ساری جماعت پر ہے لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ یہاں رہنے والوں کی ذمہ داریاں باقی جماعت سے زیادہ ہیں۔جو لوگ کرایہ کے مکانوں میں رہتے ہیں وہ بھی اس موقع پر مکانات کے