خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 386

$1954 386 خطبات محمود۔تو انہیں پڑھ لینا۔میں نے کہا اچھا رکھ دو۔ولایت جا کر انہوں نے مجھے ایک چٹھی لکھی۔اس کے شروع میں یہ لکھا تھا کہ شاید آپ مجھے نہ پہچانیں میں اپنی پہچان کے لیے لکھتا ہوں کہ میں وہ ہوں جو آج سے تین ماہ پہلے آپ سے دہلی کے شاہی قلعہ میں ملا تھا اور میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہماری دو والدہ تھیں اور ہر ایک والدہ سے ہم دو دو بھائی ہیں۔ان میں سے ایک ہم نے آپ کو دے دیا ہے اور ایک ایک غیر احمد یوں کو دے دیا ہے۔اس طرح ہم۔پورا پورا انصاف کیا ہے۔روپیہ میں سے اٹھنی آپ کو دی ہے اور اٹھتنی دوسرے مسلمانوں کو۔اور آپ نے بھی مذاقاً یہ کہا تھا کہ ہم تو اٹھنی پر راضی نہیں ہوتے۔ہم تو پورا روپیہ لے کر چھوڑا کرتے ہیں۔سو اب میں ایک اور چوٹی آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور اپنے آپ کو آپ کی بیعت میں شامل کرتا ہوں۔انہوں نے لکھا میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میرے بھائی محمد اکرم خاں صاحب نے کچھ کتابیں میرے ٹرنک میں رکھ دی تھیں۔ہم پٹھان ہیں۔ہم میں اسلام کی خدمت کا جوش ہوتا ہے۔چاہے ہمیں کچھ آئے یا نہ آئے ہمارا ارادہ ضرور ہوتا ہے کہ ہم کسی کافر کو ماریں۔وہی جوش مجھ میں بھی تھا۔جب میں انگلستان پہنچا اور میں نے یہاں مختلف مقامات کی سیر کرنی شروع کی تو چونکہ میں گورنمنٹ کا ایک عہدیدار تھا اس لیے مجھے بعض اداروں کے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔میں نے دیکھا کہ ہمارے ایک کارتوس کے مقابلہ میں ان کے پاس لاکھوں بلکہ کروڑوں کارتوس اور ایک بندوق کے مقابلہ میں لاکھوں بندوقیں ہیں اور طرح طرح کے ترقی یافتہ ہتھیار ہیں۔ہمارے ہاں طیاروں کا نام و نشان نہیں لیکن ان کے پاس بڑی تعداد میں طیارے ہیں۔پھر اس ملک کے کارخانوں کے مقابلہ میں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں۔یورپ کی اس ترقی کو دیکھ کر میرے دل میں مایوسی پیدا ہوئی اور یقین ہو گیا کہ اب اسلام دنیا پر غالب نہیں آ سکتا۔اپنی اس کمزوری اور مجبوری کے ہوتے ہوئے ہم اتنے بڑے ترقی یافتہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کریں گے۔تلوار سے مارنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا شخص کمزور اور نہتا ہو لیکن یہاں تو یہ ہے کہ ہم کمزور اور نہتے ہیں اور دشمن ہم سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے۔میری حالت پاگلوں کی سی ہو گئی۔کل شام کو گھر آیا تو مایوسی کی حالت میں نے گھر والوں سے کہا کہ محمد اکرم خاں نے بعض کتب میرے ٹرنک میں رکھی تھیں، ، وہ دو۔