خطبات محمود (جلد 35) — Page 379
$1954 379 خطبات محمود پیدا ہو جائے۔اور جب فساد اور خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو کوئی قوم یکدم نہیں بن سکتی بلکہ اُس پر ایک وقت لگتا ہے۔آخر جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی رسول ایسا نہیں آتا جس پر اُس زمانہ کے لوگ استہزا نہیں کرتے تو ظاہر ہے کہ مذاق کسی بڑی قوم کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو لاکھ میں سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ ہو جاتا یا دوکروڑ میں سے ایک کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ لوگ ہو جاتے تو باقی لوگوں میں اتنی ہمت ہی کہاں ہو سکتی تھی کہ وہ ان پر استہزا کرتے۔مذاق اسی لیے کیا جاتا ہے کہ وہ قوم دوسروں سے چھوٹی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کو لوگ لَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ 3 کہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چند لوگ ہیں جو ترقی اور بیداری کی خواہیں دیکھ رہے ہیں۔جن مقاصد کو یہ لوگ پیش کر رہے ہیں اُن کے لیے تو ایک مضبوط قوم کی ضرورت ہے۔یہ چند آدمی اس کام کو کس طرح کر سکتے ہیں۔غرض انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ چھوٹی ہوتی ہیں اور بعض دفعہ تو اُن کی تعداد اتنی قلیل ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ بعض انبیاء کو صرف ایک ایک می نے مانا۔4 اب اُس ایک شخص کا دوسرے لوگوں پر کیا رُعب پڑ سکتا تھا۔بعد میں یہ جماعتیں آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کرتی ہیں اور اُن کے افراد ایک سے دو، دو سے تین اور تین سے چار ہو جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ سے زیادہ محفوظ تاریخ اور کسی نبی کی نہیں۔حضرت نوح، ابراہیم، موسی اور عیسی علیہم السلام کی تاریخیں کسی حد تک محفوظ ہیں لیکن زیادہ تر قابل اعتبار وہی حالات ہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں۔باقی تاریخ زیادہ روشن نہیں۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایسی ہے جو ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔جس طرح آپ کو سورہ فاتحہ ملی جو کھلے مضامین رکھنے والی ہے اسی طرح آپ کو زندگی بھی " ملی جو کھلی کتاب کے طور پر تھی۔آپ نے بیویوں سے پیار کیا تو وہ بھی تاریخ میں موجود آپ نے تھوکا، نہایا، وضو کیا، پیشاب کیا، پانی پیا یا کھانا کھایا تو وہ بھی تاریخ میں محفوظ چلا آتا ہے۔غرض آپ کی تاریخ بھی فاتحہ ہے اور آپ کی زندگی بھی فاتحہ ہے۔دشمن اگر وہ ہے،