خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 357

$1954 357 خطبات محمود سے خالی تھے۔لیکن اب مرکز کی طرف سے بھیجے گئے مبلغین اور بیرونی ممالک کے لوکل مبلغین نی کو ملایا جائے تو غالباً ان کی تعداد سو سے بھی بڑھ جائے گی۔ملکوں اور شہروں کے لحاظ سے ترقی اور بھی حیرت انگیز اور وسیع ہے۔تحریک جدید سے پہلے یورپ میں صرف ایک مشن تھا لیکن اب پانچ مشن قائم ہیں۔ایک مشن سپین میں ہے، ایک مشن سوئٹزر لینڈ میں ہے، ایک مشن جرمنی میں ہے، ایک مشن ہالینڈ میں ہے اور ایک مشن انگلینڈ میں ہے۔اور اب ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سویڈن میں بھی ایک مشن قائم کر دیا جائے گا۔ہمارے ایک ڈچ نوجوان جو کچھ عرصہ ہوا احمدی ہوئے تھے اس وقت سویڈن میں ہیں۔انہوں نے اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے پیش کیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میں کچھ عرصہ تک مرکز میں رہ کر دینی تعلیم حاصل کروں گا اور اس کے بعد سویڈن میں احمدیت اور اسلام کی تبلیغ کروں گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آہستہ آہستہ یورپ کے بعض اور ممالک میں بھی مشن قائم ہو جائیں گے۔فرانس بھی نہایت اہم ملک ہے لیکن ابھی وہ خالی پڑا ہے وہاں کوئی مبلغ نہیں۔اٹلی بھی نہایت اہم ملک ہے لیکن ابھی وہ بھی خالی پڑا ہے وہاں بھی ہمارا کوئی مبلغ نہیں۔دونوں ممالک مغربی یورپ کے نہایت اہم ممالک ہیں اور ان دونوں کے بغیر مغربی یورپ کی تبلیغ کو مکمل نہیں کہا جا سکتا۔سویڈن میں نیا مشن قائم ہو جانے کے بعد ہم سمجھیں گے کہ سکنڈے نیوین ممالک ڈنمارک، سویڈن اور ناروے میں ایک حد تک تبلیغ کا کام کیا جا سکے گا۔ان ممالک کے رہنے والے نیم جرمنی نسل سے ہیں۔یہ بہت حد تک جرمن تہذیب سے تعلق۔رکھتے ہیں۔یورپ کے بعض ممالک کے باشندے اٹالین نسل سے ہیں۔مثلاً اٹلی ہے، سپین ہے، فرانس ہے بعض ممالک کے باشندے جرمنی کی ابتدائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔مثلاً سویڈن ہے، ڈنمارک ہے، ناروے ہے، ہالینڈ ہے ، بیلجیئم ہے (بیلجیئم کا آدھا جرمنی کے زیراثر ہے اور آدھا حصہ فرانس کے زیراثر ہے)۔مشرق میں جا کر سلاو (1SLAV نسلوں کا زور ہے۔ان میں مغل بھی ہیں۔مثلاً ہنگری ہے، پولینڈ ہے، فن لینڈ ہے ان ممالک میں مغل قوم کا کچھ حصہ بس گیا ہے۔پھر یوگوسلاویہ، بلغاریہ، رومانیہ اور روس سب سلاو (SLAV) نسل سے ہیں۔یونان بھی درحقیقت اٹلی کے اثر کے نیچے