خطبات محمود (جلد 35) — Page 323
$1954 323 خطبات محمود دیکھو! یہ جماعت اس بات کو مانتی ہے کہ قرآن کریم منسوخ نہیں، اس کا ہر حصہ قابل عمل لیکن ہم کہتے ہیں اس کا ایک حصہ منسوخ ہے۔بولو! نعرہ تکبیر۔تو اس پر سب حاضرین اللهُ اَكْبَرُ کا نعرہ لگا دیں گے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے۔میں نے کہا یہاں تو لوگ بھوکوں مرتے ہیں۔ایک مولوی کی ماہوار آمد تین ڈالر سے بھی کم پڑتی ہے۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک مولوی کی ماہوار آمد نو روپے ہے۔اب ایک نو روپے لینے والا جسے لوگ کمی“ سمجھتے ہیں اور جس سے اپنے مُردے نہلواتے ہیں اُس کی مذہبی حالت کیا ہو گی۔ایسے شخص کو جو بھی کچھ دے گا وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا دے گا۔حضرت خلیفة أسبح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک مولوی سے میرے دوستانہ تعلقات پیدا ہو گئے۔ایک دن ایک شخص میرے پاس آیا اور اُس نے کہا آپ فلاں مولوی کی اتنی عزت کرتے ہیں حالانکہ وہ اتنا بے ایمان ہے کہ اُس نے فلاں عورت کا نکاح ایک دوسرے مرد سے پڑھ دیا ہے۔حالانکہ اُس کا پہلا خاوند موجود ہے اور ابھی اُس نے اُسے طلاق نہیں دی۔گویا نکاح پر نکاح پڑھ دیا ہے۔میں نے کہا میں یہ بات نہیں مان سکتا۔اُس شخص نے کہا اگر آپ کو شبہ ہو کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ غلط ہے تو آپ مولوی صاحب سے پوچھ لیں کہ آیا انہوں نے نکاح پر نکاح پڑھا ہے یا نہیں۔میں نے یہ بات اپنے ذہن میں رکھی۔کچھ دنوں کے بعد مولوی صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے تو میں نے انہیں کہا میں نے آپ سے ایک بات کہنی ہے۔کسی شخص نے آپ کے متعلق مجھ سے ایک بات بیان کی تھی۔میں نے اس کی تردید تو کر دی تھی اور کہا تھا میں نہیں مانتا لیکن اُس نے کہا تھا آپ مولوی صاحب سے ہی پوچھ لیں۔مجھے اعتبار تو نہیں کہ آپ نے ایسا کیا ہو، تاہم آپ سے ذکر کر دیتا ہوں۔اُس نے مجھ سے آ کر کہا تھا کہ آپ نے ایک منکوحہ عورت کا نکاح جس کا پہلا خاوند زندہ ہے اور طلاق واقع نہیں ہوئی کسی دوسرے مرد سے پڑھ دیا ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ آپ فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں۔آپ میری بات بھی سن لیں۔میں نے کہا فرمائیے۔اس پر وہ کہنے لگا آپ خود ہی انصاف کریں کہ اُنہاں چڑی چڑا روپیہ کڈھ کے میرے ہتھ تے رکھ دتا تے میں کی کردا۔یعنی جب انہوں نے میرے سامنے ایک چڑیا کے برابر روپیہ رکھ دیا تو میں نکاح