خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 239

$1954 239 خطبات محمود ہو اس کے بعد میں سب سے پہلے یہاں کے دوستوں کو اور پھر جب خطبہ شائع۔تو اس کے ذریعہ بیرونی جماعتوں کو مخاطب کر کے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں جب بھی تو میں آگے قدم بڑھاتی ہیں اور جب بھی وہ اپنے منبع سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں لازماً اُن میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔انگریزی میں ایک مشہور مثل ہے کہ قوم کی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے نیو بلڈ (New Blood) یعنی نئے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ہمیں بھی ایک لمبے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کا سوال ہے نئے آنے الے بہ نسبت پرانے اور نسلاً احمدیوں کے، زیادہ جوش رکھتے ہیں اور اس کی یہ وجہ ہے کہ نئے آنے والے ہر مسئلہ پر بحث کر کے آتے ہیں۔ہر مسئلہ انہوں نے خوب سوچا سمجھا ہوا ہوتا ہے اور اس پر غور کیا ہوا ہوتا ہے۔اس کے خلاف انہوں نے دلائل سنے ہوئے ہوتے ہیں۔اس طرح اس کی تائید میں بھی انہوں نے دلائل سنے ہوئے ہوتے ہیں۔اس لیے کوئی چیز انہیں اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتی۔جن چیزوں نے انہیں اپنی جگہ سے ہٹانا تھا اُن پر وہ پہلے سے ہی بحث کر چکے ہوتے ہیں۔لیکن جو لوگ نسلاً کسی مذہب میں داخل ہوتے ہیں نہ اُن کے سامنے سارے دلائل آتے ہیں نہ انہوں نے ان کے متعلق کوئی بحث کی ہوئی ہوتی ہے اور نہ اُن کی تائید میں یا اُن کے خلاف دلائل سنے ہوتے ہیں۔اس لیے جن گندوں کو دیکھ کر ان کے ماں باپ کسی مذہب سے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں وہ ان کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جو چیزیں اُن کے والدین کو مایوس کرنے والی اور بھگانے والی ہوتی ہیں وہ اُن کے لیے کشش کا موجب ہو جاتی ہیں۔اُن کے ماں باپ بیسیوں سال تک اپنے شہروں اور محلوں میں دیکھ چکے تھے کہ فلاں کیسے شریف خاندان میں سے ہے، کس کا بیٹا ہے اور کس طرح سارا شہر اُس کی عزت کیا کرتا تھا۔پھر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اُس کی اولاد نے سینما اور تماشوں میں جانا شروع کیا جس کی وجہ سے اُن کی مالی حالت بگڑی۔پہلے اُن کے پاس گھوڑے تھے ، گاڑیاں تھیں جن کی میں وہ سواری کرتے تھے۔مالی حالت بگڑنے کی وجہ سے وہ پک گئیں۔پھر انہوں نے کرایہ کی گاڑیوں پر سفر کرنا شروع کیا۔پھر جب اور مالی حالت بگڑی تو انہوں نے پیدل چلنا شروع کیا۔جب تعیش کے سارے سامان ختم ہو گئے تو انہوں نے چوری اور ٹھگی کے ذریعہ مال