خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 187

$1954 187 خطبات محمود کو بہر حال خدا کا منشا یہ ہے کہ ہم سچ بولیں۔اب اگر ہم جھوٹ بولیں اور سچائی چھپائیں تو ہماری نگاہ میں خدا کی کوئی قدر نہ رہی۔یا یوں کہو کہ ہم خدا کی بادشاہت کو قائم کرنے کی بجائے شیطان کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے والے بن جائیں گے۔آخر خدا کی بادشاہت اس طرح تو قائم نہیں ہو گی کہ لندن یا پیرس یا واشنگٹن یا نیو یارک جیسا مقام آباد کیا جائے گا۔ایک بہت بڑا تخت بچھایا جائے گا اور پھر ایک بڑا تاج تیار کیا جائے گا جو جواہرات اور ہیروں سے مرقع ہو گا۔اور پھر ایک دن مقرر کیا جائے گا جس میں اللہ تعالیٰ آسمان سے اُترے گا، اُسے خلعت پہنایا جائے گا، اُس کے سر پر تاج رکھا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ آج خدا کی حکومت دنیا میں قائم ہو گئی ہے۔ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا سے تمسخر ہے۔اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ اس طرح خدا کی بادشاہت قائم ہوگی تو وہ دین کو کھیل بناتا اور ایک بہت بڑی معصیت کا ارتکاب کرتا ہے۔ہم جو کہتے ہیں کہ دنیا میں خدا کی بادشاہت قائم ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ لوگ اس کی باتیں ماننے لگ جائیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں کی حکومت قائم ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں پر اُس کے احکام کی اطاعت فرض ہے۔اگر لوگ اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو حکومت کے افسر اور ذمہ دار کارکن اور حج سب اس کے مخالف ہو جاتے ہیں اور اُسے سزا دیتے ہیں۔جب یہی بات خدا تعالیٰ کے متعلق ہو جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو گئی ہے۔جس طرح حکومت کہتی ہے کہ ٹیکس دو اور لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہ پکڑے جاتے ہیں۔افسران بالا تک رپورٹ کی جاتی ہے کہ فلاں نے ٹیکس نہیں دیا۔پھر تحصیلدار آتا ہے اور اس پر ٹھپہ لگ جاتا ہے۔ٹھپہ لگنے کے بعد وہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتا ہے اور وہ اُسے جرمانہ ہے قید کی سزا دیتا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ کی بادشاہت بھی اُسی صورت میں قائم ہو سکتی ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی جائے۔اور جو لوگ اُن احکام کی خلاف ورزی کریں کے ہم مخالف ہو جائیں۔خدا نے کہا ہے کہ سچ بولو۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم سچ بولیں اور جو شخص نہیں بولتا اُس کے مخالف ہو جائیں اور اُس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیں۔