خطبات محمود (جلد 35) — Page 107
$1954 107 خطبات محمود کہہ لے، استاد کو بُرا کہہ لے، وہ اگر گالی چاہے تو اپنی ہر عزیز ترین چیز کو غلیظ گالی دے لے لیکن جو حصہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اس میں انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔تقدیر کا جو حصہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اس میں وہ انسان پر الزام نہیں دیتا لیکن جو حصہ اس نے انسان کے ہاتھ میں دیا ہے اُس کے نتائج انسان کے کام کے مطابق پیدا ہوتے ہیں۔چاہے وہ اپنے لیے پھانسی کا حکم دے لے۔خدا تعالیٰ فرشتوں کو کہہ دے گا اُسے پھانسی لگنے دو۔کیا تم نے دیکھا نہیں کہ بعض لوگ اپنے گلوں میں رستے ڈال کر خود کشی کر لیتے ہیں؟ خدا تعالیٰ اس میں کوئی روک پیدا نہیں کرتا۔وہ کہتا ہے میرا اس میں کوئی دخل نہیں۔تم اگر گلے میں رسہ ڈال کر پھانسی لیتے ہو تو تمہیں پھانسی مل جائے گی۔ہاں! موت کے بعد میں تمہیں جہنم میں ڈالوں گا۔دنیا میں میں تمہیں نہیں روکوں گا۔یا کوئی شخص اسلام کے خلاف تقریر کرتا ہے، خدا تعالیٰ کے رسول کے خلاف تقریر کرتا ہے، قرآن کریم کے خلاف تقریر کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس کی زبان کو چلنے دیتا ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ چیزیں ہیں جن پر انسان کو اختیار حاصل نہیں۔ان میں اس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔چاہے وہ کتنا زور لگا لے۔مثلاً تمہاری انگلی ہے اگر تم اسے سوئی کے نا کا میں ڈالنے کی کوشش بھی کرو تو اس کو نا کا میں نہیں ڈال سکتے۔خواہ کوئی جرنیل ہو، نواب ہو، بادشاہ ہو، دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت اس کے پاس ہو لیکن وہ اپنی انگلی سوئی کے ناکہ میں نہیں ڈال سکتا۔یا مثلاً میٹھا ہے تم اگر چاہو بھی تو اسے کڑوا نہیں چکھ سکتے۔کڑوا ہے تو میٹھا نہیں چکھ سکتے۔آواز ہے اگر تمہیں کسی عزیز کی آواز آن رہی ہے تو تم اگر چاہو بھی تو اُسے کسی دوسرے شخص کی آواز نہیں بنا سکتے۔کسی کے ہاں بدصورت لڑکا پیدا ہوا ہو تو اگر وہ چاہے کہ وہ خوبصورت ہو جائے تو وہ اُسے خوبصورت نہیں بنا سکتا۔کسی کے لڑکے کا قد چھوٹا ہے تو اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ اس کے قد کو لمبا کر لے۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو چیزیں خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ میں رکھی ہیں اُن کے متعلق ہمارا یہ خیال بالکل غلط ہو گا کہ ہم سمجھیں کہ ان کے نتائج خدا تعالیٰ پیدا کرے گا۔جو چیزیں خدا تعالیٰ نے ہمارے اختیار میں رکھی ہیں اُن کا ایک ہی طریق ہے کہ ہم ان کے متعلق کوشش اور تدبیر سے کام لیں گے تو ان کا نتیجہ برآمد ہو گا ورنہ نہیں۔مسلمانوں کی تباہی۔