خطبات محمود (جلد 35) — Page 100
$1954 100 خطبات محمود ނ ایسی جگہ پر نہ کھائے پیے جہاں لوگوں کو اُس کے متعلق یہ علم نہیں کہ وہ معذور ہے اس لیے روزہ نہیں رکھتا۔اگر کسی شخص کو بوڑھا یا معذور ہونے کی وجہ سے شریعت نے روزہ رکھنے معذور قرار دیا ہے اور وہ بازاروں میں کھاتا پھرتا ہے یا سگریٹ نوشی کرتا ہے تو اُس کو دیکھ کر نوجوان یہ سمجھیں گے کہ رمضان کے مہینہ میں جب ہمارے بزرگ بازاروں میں کھاتے پیتے ہیں تو ہمارے لیے بھی اس میں کوئی حرج نہیں۔مثلاً اس سال میں بیمار ہوں اس لیے میں روزے نہیں رکھتا۔ایک دن میری ایک بیوی نے دن کے وقت میرے ساتھ کھانے پر دو بچوں کو بھی بٹھا دیا۔میں نے اُسے کہا کہ ان بچوں میں اتنی عقل نہیں کہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کا کوئی بزرگ کسی بیماری یا عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا۔تم نے انہیں میرے ساتھ کھانے پر بٹھا کر انہیں روزہ نہ رکھنے پر دلیر بنایا ہے۔بیشک میں بیمار ہوں اور میں روزہ نہیں رکھتا لیکن ان کو کھانے پر میرے سامنے بٹھانے کے یہ معنے ہیں کہ یہ سمجھیں کہ ہم نے رمضان کے مہینہ میں دن کے وقت اپنے باپ کے ساتھ کھانا کھایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ نہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔حالانکہ معذوری میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اور عام حالات میں روزہ نہ رکھنے میں فرق ہے۔پس انہیں میرے ساتھ نہ بٹھاؤ تا کہ بڑے ہو کر انہیں روزہ ترک کرنے پر دلیری پیدا نہ ہو۔پس بیشک بعض معذوریاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کا شریعت نے حکم دیا ہے لیکن ان کی وجہ سے بازاروں میں کھانا پینا درست نہیں کیونکہ دوسرے لوگوں کو حالات کا علم نہیں ہوتا اور وہ ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔اس وجہ سے جب بھی میں بیٹھ کر نماز پڑھاتا ہوں میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ بیمار ہونے کی وجہ سے میں ایسا کروں گا کیونکہ ہو سکتا ہے بعض لوگ جس مجھے بیٹھ کر نماز پڑھاتے دیکھیں تو وہ بھی بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیں۔حالانکہ صحت کی حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔پچھلے دنوں میں تو میرے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بھی سوال نہیں تھا کیونکہ میں نہ سر کو ہلا سکتا تھا اور نہ جُھکا سکتا تھا بلکہ حملہ کے شروع ایام میں تو میں صرف انگلی سے اشارہ کر سکتا تھا۔گویا چارپائی پر جسم پڑا ہے اور انگلی کے ساتھ ہی رکوع اور سجدہ ہو رہا ہے۔مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ سر ہلا سکوں۔اب اگر دیکھنے والا میری معذوری سے