خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 99

$1954 99 خطبات محمود تو وہاں بسنے والوں کو اس غرض سے بسنا چاہیے تھا کہ وہ یہاں رہ کر دین کی اشاعت میں دوسروں سے زیادہ حصہ لیں گے۔حال ہی میں ایک لمبی فہرست میرے پاس ان لوگوں کی بھیجی گئی ہے جو ربوہ میں رہتے ہیں اور کمائی بھی کرتے ہیں اور پھر ان میں سے ایک تعداد سلسلہ سے امداد کی بھی درخواست کرتی رہتی ہے۔لیکن اپنی آمد میں سے ایک پیسہ بھی چندہ میں ادا نہیں کرتے۔اس طرح بعض لوگوں کی بداعمالیاں اور لڑائیاں دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب بن جاتی ہیں۔مثلاً شریعت کہتی ہے کہ بیمار روزہ نہ رکھے۔1 پس اگر کوئی شخص بیمار ہے اور وہ روزہ نہیں رکھتا تو شریعت اُسے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن وہ اس سے یہ توقع بھی رکھتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب نہ بنے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے کہا ہے بدقسمت ہے وہ انسان جو دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب بنتا ہے۔2 روزہ نہ رکھنے کی اجازت اور چیز ہے اور دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب بننا بالکل اور چیز ہے۔جو شخص معذور ہے، بیمار ہے اور وہ روزہ نہیں رکھتا اُس کے گھر والے تو جانتے ہیں کہ وہ کسی معذوری یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا۔اگر چہ گھر والوں کو بھی اس کے متعلق بتانا پڑتا ہے کیونکہ بچے نہیں سمجھتے کہ ہمارا باپ کمزور ہے یا اتنا بڑھا ہو گیا ہے کہ شریعت اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔اس لیے بچوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ بوڑھوں کے لیے احکام اور ہیں اور تم نوجوانوں کی کے لیے احکام اور ہیں۔بہر حال گھر والے تو یہ جانتے ہیں کہ فلاں شخص معذور ہے اس لیے روزہ نہیں رکھتا۔لیکن باہر کے لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ کسی معذوری اور بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ رہا۔اس لیے جب وہ پبلک میں کھائے پیے گا تو اس کا دوسروں پر بُرا اثر پڑے گا۔مجھے یہ شکایت پہنچی ہے کہ ربوہ میں بعض لوگ بازاروں میں کھا لیتے ہیں اور بعض لوگ پبلک میں سگریٹ پیتے ہیں۔سگریٹ کو ہم حرام تو نہیں کہہ سکتے لیکن سگریٹ نوشی ایک لغوی کام ضرور ہے۔اگر کوئی شخص سگریٹ نوشی کا عادی ہو جاتا ہے یا ڈاکٹروں نے اس کے متعلق, کہہ دیا ہے کہ اب یہ سگریٹ نوشی چھوڑ نہیں سکتا۔اگر چھوڑے گا تو اس کی صحت بگڑ جائے گی تو کم از کم اس میں اتنی حیا اور قومی درد تو ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں چھپ کر سگریٹ نوشی کرے۔اگر وہ بیماری یا کسی اور عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا تو گھر میں بیٹھ کر کھائے پیے۔