خطبات محمود (جلد 35) — Page 76
$1954 76 خطبات محمود جب آپ کا ذکر کرتے تو کہا کرتے تھے میرے خلیل نے یوں کہا، میرے خلیل نے یوں کہا۔2ے حالانکہ عربی زبان کے لحاظ سے خلیل اسے کہتے ہیں جس کا عشق اتنا سرایت کر جائے کہ جسم کے مساموں میں داخل ہو جائے اور یہ مقام بہت بڑا ہے مگر حضرت ابو ہریرہ اپنی محبت کے جوش میں یہ بتانے کے لیے کہ گویا ان کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا پرانا تعلق تھا کہا کرتے تھے میرے خلیل نے یوں کہا، میرے خلیل نے یوں کہا۔ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباس نے انہیں یہ الفاظ کہتے سُن لیا تو انہیں بُرا معلوم ہوا اور انہوں نے ڈانٹا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ تمہارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنا تعلق تھا؟ حضرت ابو ہریرہ ڈر گئے اور انہوں نے کہا میں تو محبت کے جوش میں یہ کہہ رہا ہوں۔3 اب دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا میں کسی اور کو خلیل بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا۔4 گویا خلیل“ کا لفظ ابو ہریرہ کے لیے چھوڑ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کے لیے بھی استعمال نہیں فرمایا، حضرت عثمان کے لیے بھی استعمال نہیں فرمایا، حضرت علیؓ کے لیے بھی استعمال نہیں فرمایا لیکن ابو ہریرۃ اپنے تعلق کے اظہار کے لیے جب کوئی روایت کرتے تو بعض دفعہ یہ نہ کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے بلکہ فرماتے میرے خلیل نے کی ایسا کہا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس نے انہیں ڈانٹا کہ خبردار! جو آئندہ یہ الفاظ استعمال کیے۔پس جن لوگوں کے اندر جوش ہوتا ہے خواہ انہیں کوئی بھی پوزیشن حاصل نہ رہ چکی ہو وہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خواہ وہ کتنی بڑی پوزیشن رکھتے ہوں اُن کے اندر اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی خواہش نہیں ہوتی۔صحابہ جب کہیں باہر جاتے تھے تو گومسئلہ یہی ہے کہ جو امام ہو اُسی کو نماز پڑھانی چاہیے سوائے خلیفہ وقت کے کہ وہ جہاں جائے گا وہی امام ہو گا ، پھر بھی بعض لوگ ان کی بزرگی اور اخلاص کی وجہ سے انہیں نماز پڑھانے کے لیے کہہ دیتے تھے۔اس پر بعض صحابہ انکار کر دیتے مگر بعض دفعہ وہ لوگوں کے اصرار پر پڑھا بھی دیتے کیونکہ بعض دفعہ دوسرے کا اصرار اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے اب اگر میں نے انکار کیا تو اس کی دل شکنی ہو گی۔