خطبات محمود (جلد 35) — Page 77
خطبات محمود 77 $1954 غرض لاہور کی جماعت کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ میں آپ پر ایمان لائے۔اور اگر وہ نہیں تو ان کے رشتہ دار ایسے موجود ہیں جو صحابی ہیں خواہ وہ ایسے مقام پر نہیں کہ دعوی سے پہلے انہوں نے آپ کی مدد کی ہو مگر وہ ایسے مقام پر ضرور ہیں کہ وہ اُس وقت ہوش والے تھے اور عقل والے تھے جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے خاندانوں میں اب وہ جوش نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔بعض میں تو کمزوری پیدا ہو گئی ہے اور بعض اپنے آپ کو نمایاں کرنے سے گریز کرتے ہیں۔شاید ان کے دلوں میں یہ خیال ہو کہ ہمیں آگے آنے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے بتایا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بھی آگے آنے سے انکار کیا تھا مگر انہوں نے کہا یہی، کہ حق ہمارا ہے۔گویا یہ تو انہوں نے کہا کہ ہم حکومت نہیں لیتے لیکن جو فضیلت اور بزرگی اُن کو حاصل تھی اُس سے انہوں نے انکار نہیں کیا۔اگر ایسے لوگ اپنے آپ کو آگے کریں تو یقیناً دوسروں میں بھی یہ احساس پیدا ہونے لگے گا کہ احمدیہ کی خدمت میں انسان خدائی برکات سے حصہ لیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہ احساس ساری جماعت میں پیدا ہو جائے گا۔جلسہ مذاہب عالم کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مضمون لکھا اور جو آجکل ساری دنیا میں پیش کیا جاتا ہے وہ بھی اس لاہور میں پڑھا گیا تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو آخری پیغام ”پیغام صلح کے نام سے دیا اور جو اپنے اندر وصیت کا ایک رنگ رکھتا ہے وہ بھی لاہور میں ہی پڑھا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آخری ایام زندگی بھی اسی جگہ گزارے اور پھر یہیں آپ دنیا سے جُدا ہوئے۔اس کے بعد جب خلافت کا جھگڑا پیدا ہوا تو مخالفت کا مرکز بھی یہی لاہور اور موافقت کا مرکز بھی لاہور تھا۔اُس وقت جماعت کی تعداد موجودہ تعداد سے بہت کم تھی۔باہر سے بھی اگر لوگ آ جاتے تو اُن کو شامل کر کے یہاں کی جماعت اتنی نہیں ہوتی تھی جتنی اس وقت خطبہ میں بیٹھی ہے۔مگر اُس وقت اخلاص اور محبت کی یہ کیفیت تھی کہ جب میں لاہور آتا تو سینکڑوں لوگ اردگرد کی جماعتوں کے لاہور میں آ جاتے اور یہاں کا ہر احمدی دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتا اور اسے یہ محسوس بھی نہ ہونے دیتا کہ وہ لاہور میں ایک مسافر کی