خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 63

$1954 63 خطبات محمود لیکن اُس کے ماں باپ اُس پر خرچ کرتے ہیں اور اُس بچے کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ و اپنی تعلیم ہی مکمل کر لے۔پھر اکثر بچے ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ کمانے لگتے ہیں تو والدین کی مدد نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اُن پر صرف اپنی اولاد کی خدمت کرنا فرض ہے۔اور بعض نوجوان تو ایسے ہوتے ہیں جو سینما دیکھتے ہیں ، عیاشیاں کرتے ہیں لیکن جب کوئی ان سے کہے کہ میاں! تم اپنے والدین کو بھی کچھ بھیجا کرو تو وہ کہہ دیتے ہیں کوئی پیسہ بچے تو بھیجیں۔کوئی پیسہ بچتا ہی نہیں۔والدین کو کہاں سے دیں۔غرض ان ممالک کے حالات اس قسم کے ہیں کہ اُن لوگوں کی محنت کو دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ایسے حالات میں ہم انہیں شکست کیسے دیں گے۔لیکن پھر بھی اُن کے اندر ایک احساس کمتری پیدا ہو رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز ہے جو اُن کے پاس نہیں اور ایشیائیوں کے پاس ہے۔یہ احساس کمتری ابھی زیادہ نمایاں نہیں کہ بڑے اور چھوٹے سب لوگوں میں پایا جائے لیکن تاہم ایک طبقہ اُن کے اندر ایسا پیدا ہو گیا ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ اُن کے پاس دولت ہے، مال ہے لیکن انہیں دل کا چین نصیب نہیں۔وہ لوگ شرابیں پیتے ہیں، سینما دیکھتے ہیں، ناچ اور گانوں میں دن گزارتے ہیں لیکن جب نشہ اتر جاتا ہے اور وہ چار پائی جا کر لیٹتے ہیں تو انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی خلا پایا جاتا ہے اور وہ خلا سوائے تعلق باللہ اور دین کے اور کوئی چیز پر نہیں کر سکتی۔دنیا کی ہر نعمت کو حاصل کر لینے کے بعد بھی اُن کے اندر یہ حسرت ہوتی ہے کہ کوئی چیز ایسی ہے جو انہیں حاصل نہیں اور وہ حاصل ہونی چاہیے۔خدا تعالیٰ سے محبت ایک ایسی نعمت ہے کہ جب وہ کسی شخص کو مل جاتی ہے تو دنیا کے سارے غم مٹ جاتے ہیں اور اسے کوئی حسرت باقی نہیں رہتی۔اسے کسی چیز کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔عارضی غم بیشک آتے ہیں مثلاً کسی کو کانٹا بچھ جائے تو اس کے نتیجہ میں اُسے درد تو ہوتی ہے لیکن اُسے کوئی شخص بیماری نہیں کہتا۔اسی طرح عارضی تکلیفیں اور غم تو آتے ہیں لیکن یہ غم ان کے رستہ میں روک نہیں بنتے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق انہیں امن اور آرام حاصل رہتا ہے۔